شاعری

سیاہیوں کا نگر روشنی سے اٹ جائے

سیاہیوں کا نگر روشنی سے اٹ جائے بہت طویل ہے یارب یہ رات کٹ جائے زمیں کا رزق ہوں لیکن نظر فلک پر ہے کہو فلک سے مرے راستے سے ہٹ جائے تمام رات ستارہ یہی پکارتا تھا ہوا کے ساتھ چلو بادباں نہ پھٹ جائے مری غزل کا ہے انورؔ سدید یہ حاصل متاع درد مرے دوستوں میں بٹ جائے

مزید پڑھیے

ہر سمت سمندر ہے ہر سمت رواں پانی

ہر سمت سمندر ہے ہر سمت رواں پانی چھاگل ہے مری خالی سوچو ہے کہاں پانی بارش نہ اگر کرتی دریا میں رواں پانی بازار میں بکنے کو آ جاتا گراں پانی خود رو ہے اگر چشمہ آئے گا مری جانب میں بھی وہیں بیٹھا ہوں مرتا ہے جہاں پانی کل شام پرندوں کو اڑتے ہوئے یوں دیکھا بے آب سمندر میں جیسے ہو ...

مزید پڑھیے

دشمن تو میرے تن سے لہو چوستا رہا

دشمن تو میرے تن سے لہو چوستا رہا میں دم بخود کھڑا ہی اسے دیکھتا رہا جو پھول جھڑ گئے تھے جو آنسو بکھر گئے خاک چمن سے ان کا پتا پوچھتا رہا میں پار کر چکا تھا ہزیمت کی منزلیں ہر چند دشمنوں کے برابر کھڑا رہا پلکوں پہ جھولتی ہوئی شفاف چلمنیں کل رات میرا ان سے عجب سلسلہ رہا اس سنگ دل ...

مزید پڑھیے

میرؔ جیسا کوئی سخنور نہ آئے گا

میرؔ جیسا کوئی سخنور نہ آئے گا اقبالؔ سا ادب میں پیمبر نہ آئے گا حسن سلوک سے مرے قائل ہوئے ہیں دوست الزام بے وفائی مرے سر نہ آئے گا اپنے لہو سے پیاس بجھانی ہے تا حیات اب راستے میں کوئی سمندر نہ آئے گا بے لطف سا رہے گا ہر اک کیف زندگی جشن طرب میں گر مرا دلبر نہ آئے گا میری ...

مزید پڑھیے

وہ جو تیرے قریب ہوتا ہے

وہ جو تیرے قریب ہوتا ہے کس قدر خوش نصیب ہوتا ہے جس کی خاطر نہ ہو دعا ماں کی وہی سب سے غریب ہوتا ہے جو نہ بدلا ہزار کوشش سے آدمی کا نصیب ہوتا ہے رنگ جو بھی بھرے حقیقت کے وہی سچا ادیب ہوتا ہے وقت پر کام آئے جو انوارؔ وہی اپنا حبیب ہوتا ہے

مزید پڑھیے

اس طرح تجھ کو چاہتا ہوں میں

اس طرح تجھ کو چاہتا ہوں میں زندگی جیسے مانگتا ہوں میں اس کے بارے میں کیا بتاؤں گا خود کو بھی کم ہی جانتا ہوں میں لوگ تو دھوپ بھی نہیں دیتے اپنا سایہ بھی بانٹتا ہوں میں اب تباہی مری یقینی ہے تیرا ہر راز جانتا ہوں میں میں کہ ہر بار قتل ہوتا ہوں ہر سیاست کو جانتا ہوں میں میں کڑی ...

مزید پڑھیے

کم بصیرت عذاب کہتے ہیں

کم بصیرت عذاب کہتے ہیں زیست کو ہم ثواب کہتے ہیں ہم نے آباد کر دئے صحرا لوگ خانہ خراب کہتے ہیں بے رخی نے ہمیں کیا گھائل وہ وفا کا جواب کہتے ہیں غم جو ننھا سا اک دیا ٹھہرا سب اسے آفتاب کہتے ہیں پیار ملتا ہے پیار کے بدلے ہم دوانے کا خواب کہتے ہیں دکھ کی لہروں کو دیکھ کر ہم تو سکھ ...

مزید پڑھیے

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے

ادائے رسم محبت خطا سی لگتی ہے ہمیں تو اپنی وفا بھی سزا سی لگتی ہے سفر میں دھوپ کا احساس تک نہیں ہوتا ہمارے سر پہ کسی کی دعا سی لگتی ہے وہ میری فکر کو چھوتا ہے جب خیالوں میں ہر ایک لفظ میں بوئے حنا سی لگتی ہے میں اپنے آپ کو پاتا ہوں روبرو اپنے تمہاری یاد بھی اب آئنہ سی لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

اپنے ہی گھر کے فرد اگر دشمنی کریں

اپنے ہی گھر کے فرد اگر دشمنی کریں کس آسرے پہ ہم یہ بسر زندگی کریں یارو قدم قدم پہ اندھیرے ہیں حکمران سورج کدھر اگائیں کہاں روشنی کریں لڑوا رہے ہیں رام کو جو بھی رحیم سے ان مذہبی خداؤں سے کیا دوستی کریں اے دوستو تناؤ میں جینا حرام ہے حد سے بڑھیں جو ظلم تو ہم سرکشی کریں آرام کے ...

مزید پڑھیے

ہوا کے ساتھ اڑ جائے گا پانی

ہوا کے ساتھ اڑ جائے گا پانی یہیں پھر لوٹ کر آئے گا پانی تعلق اک مسلسل سلسلہ ہے جہاں ٹھہرے گا مر جائے گا پانی مسلسل بارشیں ہوتی رہیں تو ہمارے گھر بھی آ جائے گا پانی ہماری پیاس بڑھ جائے گی جس دن اسی دن آگ بن جائے گا پانی جنوں کی فصل گر اگتی رہی تو زمیں پر آگ برسائے گا پانی

مزید پڑھیے
صفحہ 4081 سے 4657