شاعری

کہاں تک دور رہ پاؤں گا خود سے

کہاں تک دور رہ پاؤں گا خود سے میں اک دن ملنے آ جاؤں گا خود سے زمیں کی وسعتوں کو چھوڑ دوں گا وفاداری نبھا جاؤں گا خود سے بہت مشکل ہے صحرا پار کرنا تمہارے بن نہ مل پاؤں گا خود سے مجھے نہ روک پائے گی یہ دنیا مجھے لگتا ہے ٹکراؤں گا خود سے

مزید پڑھیے

اتری شام تو برسا پانی یا اللہ

اتری شام تو برسا پانی یا اللہ ہم جیسوں کی یہی کہانی یا اللہ کیوں ہم پہ الزام ہے مولیٰ سازش کا کب تھے ہم دریا طوفانی یا اللہ سورج کی دہلیز پہ آ کر ٹھہر گئے اندھیروں نے کیا ہے ٹھانی یا اللہ من مندر میں پیار کی کوئی گونج نہیں بھیج کوئی میرا دیوانی یا اللہ اپنے لشکر میں جب صرف ...

مزید پڑھیے

کہاں تک مجھ کو ٹھکرائے گی دنیا

کہاں تک مجھ کو ٹھکرائے گی دنیا کبھی تو خود کو سمجھائے گی دنیا میاں دل سے غلط فہمی نکالو تمہارے بن بھی چل جائے گی دنیا مجھے بھی روک ہی لے گا زمانہ تمہیں بھی یاد آ جائے گی دنیا اسے اپنا نہیں ہے ہوش انورؔ تمہیں کیا خاک سمجھائے گی دنیا

مزید پڑھیے

تو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر

تو جسم ہے تو مجھ سے لپٹ کر کلام کر خوشبو ہے گر تو دل میں سمٹ کر کلام کر میں اجنبی نہیں ہوں مجھے روند کر نہ جا نظریں ملا کے دیکھ پلٹ کر کلام کر بالائے بام آنے کا گر حوصلہ نہیں پلکوں کی چلمنوں میں سمٹ کر کلام کر قوس قزح کے رنگ میسر نہیں تو پھر دریا کی موج موج میں بٹ کر کلام کر جنت ...

مزید پڑھیے

عہد حاضر اک مشین اور اس کا کارندہ ہوں میں

عہد حاضر اک مشین اور اس کا کارندہ ہوں میں ریزہ ریزہ روح میری ہے مگر زندہ ہوں میں میں ہوں وہ لمحہ جو مٹھی میں سما سکتا نہیں پل میں ہوں امروز و ماضی پل میں آئندہ ہوں میں وہ جو مجھ کو پھینک آئے بھیڑیوں کے سامنے کیا گلہ شکوہ کہ ان سے آپ شرمندہ ہوں میں میرے لفظوں میں اگر تاب و ...

مزید پڑھیے

آرزو تھی یہ بکھیریں اپنی کرنیں صبح تک

آرزو تھی یہ بکھیریں اپنی کرنیں صبح تک روتے روتے بجھ گئی ہیں ساری شمعیں صبح تک شب کی مٹھی میں پرندوں کی طرح وہ سو گئیں ہو گئیں زندہ ہتھیلی پر لکیریں صبح تک وقت کی گزری عبارت کی تلاوت کے لیے رات کی تنہائیوں میں آؤ گھومیں صبح تک دن کا سورج ان پہ لکھے گا انوکھے تبصرے ہم نے جو تالیف ...

مزید پڑھیے

خوابوں کی تفصیل بتا کر جائیں گے

خوابوں کی تفصیل بتا کر جائیں گے جو اٹھی ہے دھول بٹھا کر جائیں گے آپ اگر چاہیں تو ہاں آرام کریں ہم تو بس آواز لگا کر جائیں گے کہتے ہیں پیمان نبھانا مشکل ہے ہم اپنا پیمان نبھا کر جائیں گے جذبے نے جو رنگ نکھارے آنکھوں میں ان سے ہم تصویر بنا کر جائیں گے آپ نے جو دیوار اساری نفرت ...

مزید پڑھیے

دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو

دیوار پر لکھا نہ پڑھو اور خوش رہو کہتا ہے جو گجر نہ سنو اور خوش رہو اپنائیت کا خواب تو دیکھو تمام عمر بیگانگی کا زہر پیو اور خوش رہو کانٹے جو دوستوں نے بکھیرے ہیں راہ میں پلکوں سے اپنی آپ چنو اور خوش رہو باتیں تمام ان کی سنو گوش ہوش سے اپنی طرف سے کچھ نہ کہو اور خوش رہو وہ کج ...

مزید پڑھیے

زور سے آندھی چلی تو بجھ گئے سارے چراغ (ردیف .. ن)

زور سے آندھی چلی تو بجھ گئے سارے چراغ گم ہوئے جاتے ہیں تاریکی میں منظر اور میں ہاتھ سے بچوں کے نکلے میری جھولی میں گرے بن گئے ہیں دوست یہ بچوں کے پتھر اور میں پر نہیں لیکن میسر طاقت پرواز ہے دیکھیے اڑتے فضاؤں میں کبوتر اور میں اب طمانیت بہت محسوس ہوتی ہے مجھے ہو گیا ہے ہم سخن ...

مزید پڑھیے

تو بھی کر غور اس کہانی پر

تو بھی کر غور اس کہانی پر جو لکھی جا رہی ہے پانی پر یہ زمیں زر اگائے گی اک دن رکھ یقیں اپنی کلبہ رانی پر اس کی بے محوری پہ غور نہ کر رحم کھا اس کی بے زبانی پر گرچہ مشکل تلاش تھی اس کی گھر ترا مل گیا نشانی پر ان سے معنی کشید کر اپنے نقش ابھرے ہیں جو بھی پانی پر قائم انور سدیدؔ نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4082 سے 4657