شاعری

جن کو توقیر رہ و رسم وفا یاد نہیں

جن کو توقیر رہ و رسم وفا یاد نہیں کیا گلہ ان سے کریں جن کو خدا یاد نہیں جانے آئے بھی تھے خوشبو کے سندیسے مجھ کو جانے گزری تھی دبے پاؤں صبا یاد نہیں آپ نے ساتھ نبھانے کا کیا تھا وعدہ اس پہ کہتے ہیں وہ ہم سے بخدا یاد نہیں نہ رہا شمع فروزاں میں بھی وہ شعلۂ عشق اور پروانوں کو مرنے کی ...

مزید پڑھیے

ایک ملبوس دریدہ ہے مری وحشت ہجر

ایک ملبوس دریدہ ہے مری وحشت ہجر ہوئی جاتی ہے حجابوں میں عیاں قامت ہجر اک تحیر سا تحیر ہے طلسم گاہ طلب ہے فسوں خیز کہیں اس سے سوا عشرت ہجر دامن درد میں سمٹا جو سکوت گریہ چشم بے آب میں پوشیدہ رہی عصمت ہجر تنگ دامانیٔ عالم میں سما ہی نہ سکی ہے سریر آرا کراں تا بہ کراں وسعت ...

مزید پڑھیے

سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر

سورج سے رس بھنور سے تو ساحل کشید کر صحرا کے ذرے ذرے سے محمل کشید کر ان رائیگانیوں سے کنارا نہ کر قبول لا حاصلی کے کرب سے حاصل کشید کر بھر تو ستارہ وار اڑانیں فلک کے پار اور لا مکاں سے پھر کوئی منزل کشید کر جذبوں کی حدتوں سے تو برفاب کھینچ لے مینائے عشق سے تو مرا دل کشید ...

مزید پڑھیے

حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ

حد نظر سے مرا آسماں ہے پوشیدہ خیال و خواب میں لپٹا جہاں ہے پوشیدہ چلا میں جانب منزل تو یہ ہوا معلوم یقیں گمان میں گم ہے گماں ہے پوشیدہ پلک پہ آ کے ستارے نے داستاں کہہ دی جو دل میں آگ ہے اس کا دھواں ہے پوشیدہ افق سے تا بہ افق ہے سراب پھیلا ہوا اور اس سراب میں سارا جہاں ہے ...

مزید پڑھیے

کاسہ لیسوں نے جو تھی نذر اتاری تیری

کاسہ لیسوں نے جو تھی نذر اتاری تیری وہی لے ڈوبی تجھے ہشت ہزاری تیری پوچھا جائے گا دور ہمایونی کا رو بکار آج ہے سرکار سے جاری تیری اس کا دیدار ہمہ وقت عبادت میری آنکھ نے دل پہ جو تصویر اتاری تیری ہم نے ہر سمت بچھا رکھی ہیں آنکھیں اپنی جانے کس سمت سے آ جائے سواری تیری ترک الفت ...

مزید پڑھیے

پیلے پیلے چہروں میں ابھری ہے آج کی شام

پیلے پیلے چہروں میں ابھری ہے آج کی شام کر سکتا ہوں کیوں کر میں یہ شام تمہارے نام سیل زماں میں ڈوب گئے مشہور زمانہ لوگ وقت کے منصف نے کب رکھا قائم ان کا نام شہرت عام میں زریں تمغے تھے دل کی تسکین لیکن قبر کے کتبے پر کب درج ہوئے انعام جشن مروت میں لوگوں کی اونچی اڑی پتنگ مرگ مروت ...

مزید پڑھیے

تجھ کو تو قوت اظہار زمانے سے ملی

تجھ کو تو قوت اظہار زمانے سے ملی مجھ کو آزادہ روی خون جلانے سے ملی قریۂ جاں کی طرح ان پہ اداسی تھی محیط در و دیوار کو رونق ترے آنے سے ملی یوں تسلی کو تو اک یاد بھی کافی تھی مگر دل کو تسکین ترے لوٹ کے آنے سے ملی میں خزاں دیدہ شجر کی طرح گمنام سا تھا مجھ کو وقعت تری تصویر بنانے سے ...

مزید پڑھیے

اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی

اپنے دل کی عادت ہے شہزادوں والی جلتی رکھتا ہے قندیل مرادوں والی ویرانے پر بن برسا اک بادل ہوں میں بوجھل آنکھیں اور صورت ناشادوں والی پنکھ ہلا کر شام گئی ہے اس آنگن سے اب اترے گی رات انوکھی یادوں والی دل کے طاق میں روزانہ ہی سجاتا ہوں میں اک دن دیکھی مورت سرخ لبادوں والی اب تک ...

مزید پڑھیے

اس کی انا کے بت کو بڑا کر کے دیکھتے

اس کی انا کے بت کو بڑا کر کے دیکھتے مٹی کے آدمی کو خدا کر کے دیکھتے مایوسیوں میں یوں ہی تمنا اجاڑ دی اٹھے ہوئے تھے ہاتھ دعا کر کے دیکھتے دشمن کی چاپ سن کے نہ خاموش بیٹھتے جو فرض تم پہ تھا وہ ادا کر کے دیکھتے بے مہریٔ زمانہ کا شکوہ فضول ہے نکلے تھے گھر سے گر تو صدا کر کے دیکھتے اس ...

مزید پڑھیے

تلاش جس کو میں کرتا پھرا خرابوں میں

تلاش جس کو میں کرتا پھرا خرابوں میں ملا وہ شخص مجھے رات میرے خوابوں میں میں اس کو غرفۂ دل میں بھلا چھپاؤں کیا جو لفظ لفظ ہے بکھرا ہوا کتابوں میں دم وصال تری آنچ اس طرح آئی کہ جیسے آگ سلگنے لگے گلابوں میں وہ آنکھ جس سے غزل میری اکتساب ہوئی وہ آنکھ جاگتی رہتی ہے میرے خوابوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4080 سے 4657