شاعری

بج رہی تھیں دور کچھ شہنائیاں کل رات کو

بج رہی تھیں دور کچھ شہنائیاں کل رات کو کروٹیں لیتی رہیں انگڑائیاں کل رات کو آرزو کا اک سمندر چیختا ہی رہ گیا دل کے ساحل پہ تھیں بس خاموشیاں کل رات کو تیرگی کا درد سناٹوں کی آہٹ کرب‌ ہجر ساتھ اپنے لائی تھیں خاموشیاں کل رات کو شور و غل میں خود کو دفنا کر رکھا تھا دن تمام برف سا ...

مزید پڑھیے

عقیدت خلوص و محبت نہیں ہے

عقیدت خلوص و محبت نہیں ہے دلوں میں وہ پہلی سی چاہت نہیں ہے مرے پیار کی کوئی قیمت نہیں ہے محبت ہے مال تجارت نہیں ہے نہیں خالی ہے یہ جہاں منتوں سے مگر پہلی سی اب قیادت نہیں ہے چلے آنا جب بھی کرے آپ کا دل مرے دل میں کوئی کدورت نہیں ہے کوئی کام ہو سخت و دشوار تر ہے اگر اس کی چشم ...

مزید پڑھیے

بے وفا میں بھی سہی تجھ میں وفا بھی تو نہیں

بے وفا میں بھی سہی تجھ میں وفا بھی تو نہیں زندگی تجھ سے مگر مجھ کو گلہ بھی تو نہیں مجھ سے بہتر کوئی مل جائے تجھے ممکن ہے مجھ کو تجھ جیسا ابھی کوئی ملا بھی تو نہیں کیوں نہ بھٹکوں میں کہ سنسانوں بھری وادی میں جو ابھارے مجھے اب ایسی صدا بھی تو نہیں جب یہ امید تھی جو مانگوں گا ہوگا ...

مزید پڑھیے

بس آفتاب کی تنویر جیسا لگتا ہے

بس آفتاب کی تنویر جیسا لگتا ہے کتابی چہرہ ہے تصویر جیسا لگتا ہے کوئی بھی دیکھے تو مبہوت ہو کے رہ جائے وہ رخ تو حسن کی تفسیر جیسا لگتا ہے کسی بھی کام کا وہ مجھ کو چھوڑتا ہی نہیں خیال بھی ترا زنجیر جیسا لگتا ہے لکیر لمبی سی کاجل کی جس میں ہوتی ہے وہ گوشہ آنکھ کا شمشیر جیسا لگتا ...

مزید پڑھیے

جو چہرہ اوروں کی خاطر خبر میں رہتا ہے

جو چہرہ اوروں کی خاطر خبر میں رہتا ہے مرے لیے وہی چہرہ جگر میں رہتا ہے ٹھہر گیا میں تو اس حسن کی گلی میں اب سبب تو ہر گھڑی میری نظر میں رہتا ہے جسے بھی دیکھو کہے چاند ہے میرا محبوب جہاں میں کیا ہے جو کوئی قمر میں رہتا ہے عجیب شہر ہے تیرا کسی کی سنتا نہیں یہاں پہ جھوٹ کا قصہ سفر ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں تری چاہت کا ایسا نشہ دیکھا

آنکھوں میں تری چاہت کا ایسا نشہ دیکھا میخانے میں جیسے میں نے جام بھرا دیکھا وہ لب تھے ترے یا وہ تھے مے سے بھرے پیالے پیتے ہی اسے ساری دنیا کا نشہ دیکھا چہرے پہ ترے بکھری زلفوں کی گھٹا ایسی ساون میں قمر کے اوپر ابر گھرا دیکھا اوروں کے لیے جو بھی ہو عشق کی تقدیریں پر میں نے تو اس ...

مزید پڑھیے

جام لب پینے کی حسرت اب تو میرے دل میں ہے

جام لب پینے کی حسرت اب تو میرے دل میں ہے پر مرا ساقی تو یاروں غیر کی محفل میں ہے قتل کر دے جو نظر سے وو ہنر سب میں کہاں یہ ہنر تو بس پری وش دل نشیں قاتل میں ہے ہے نزاکت ہے نظافت ہر ادا میں اس کے تو اس لئے ہی اب تلک زندہ وہ میرے دل میں ہے عشق کی دریا میں غوطے کھا رہا ہوں میں تو اب وہ ...

مزید پڑھیے

دیکھ کے تجھ کو میں دیکھتا رہ گیا

دیکھ کے تجھ کو میں دیکھتا رہ گیا عشق کرنے کو اب کیا بچا رہ گیا چاند کیا ہے صنم آپ کے سامنے حسن یہ دیکھ کر سوچتا رہ گیا خواب آنکھوں سے میرے گزرتے گئے نیند میں بھی تجھے سوچتا رہ گیا مجھ کو تیرے سوا کچھ نہیں چاہیے سو میں رب سے تجھے مانگتا رہ گیا روٹھ جاتی ہو پر لوٹ آتی ہو تم اس لئے ...

مزید پڑھیے

میں کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہوں

میں کیا تھا اور اب کیا ہو گیا ہوں محبت کرکے تنہا ہو گیا ہوں مسلسل چشم تر رہتی ہے میری میں یادوں کا خزانہ ہو گیا ہوں میری ان چشم میں دیکھو ذرا سا تری منزل کا رستہ ہو گیا ہوں مجھے تو سننے دے جھوٹی تسلی بہا کے آنسو دریا ہو گیا ہوں یہ دریا میٹھے پانی کا نہیں ہے میں درد و غم سے کھارا ...

مزید پڑھیے

ملک کو آخر مرے اب یہ ہوا کیا ہے خدا

ملک کو آخر مرے اب یہ ہوا کیا ہے خدا ہو رہے دنگے فسادوں کی دوا کیا ہے خدا رہنما ہی ملک کے دشمن بنے بیٹھے ہوں پھر ملک میں بہتے ہوئے خوں کی سزا کیا ہے خدا مذہبی مطلب نے ڈھیروں نام میں بانٹا تجھے تو تو قاضی ہے بتا اس کی سزا کیا ہے خدا کہتے ہیں سب ساری دنیا کو بنایا تم نے تو گاڈ اللہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4069 سے 4657