بج رہی تھیں دور کچھ شہنائیاں کل رات کو
بج رہی تھیں دور کچھ شہنائیاں کل رات کو کروٹیں لیتی رہیں انگڑائیاں کل رات کو آرزو کا اک سمندر چیختا ہی رہ گیا دل کے ساحل پہ تھیں بس خاموشیاں کل رات کو تیرگی کا درد سناٹوں کی آہٹ کرب ہجر ساتھ اپنے لائی تھیں خاموشیاں کل رات کو شور و غل میں خود کو دفنا کر رکھا تھا دن تمام برف سا ...