شاعری

ہو سکتا ہے کوئی ہمیں بھی ڈھونڈے ان بنجاروں میں

ہو سکتا ہے کوئی ہمیں بھی ڈھونڈے ان بنجاروں میں جانے کس کی کھوج میں کب سے پھرتے ہیں بازاروں میں عمر گنوائی کھوج میں جس کی ڈھونڈ پھرے گلزاروں میں قسمت کی یہ خوبی دیکھو آن ملا ویرانوں میں کوئی نہیں جو تیرے آگے حسن کا پیکر بن کر آئے شردھا کی کلیاں مسکائیں قدرت کی سوغاتوں میں آپ کی ...

مزید پڑھیے

شعر و سخن کی اس محفل میں سب سے چھوٹے ہم ہی تھے

شعر و سخن کی اس محفل میں سب سے چھوٹے ہم ہی تھے سب سے اونچے منصب والے کھوٹے سکے ہم ہی تھے یاد ہمیں ہے تم بھی سوچو وقت پڑا جب اردو پر سب تھے الجھی بھاشا والے اردو والے ہم ہی تھے دولت شہرت حکمت والے سب ہیں تیرے دم کے ساتھ دنیا تیری ساری رونق چھوڑ کے بیٹھے ہم ہی تھے ٹوٹ چکے سب رشتے ...

مزید پڑھیے

کیا سنائیں تمہیں کوئی تازہ غزل

کیا سنائیں تمہیں کوئی تازہ غزل شعر حیرت زدہ آب دیدہ غزل تم کو لوگو ابھی بھانگڑہ چاہیئے درد کی زندگی کا ترانہ غزل وقت برباد کرتے رہے اس طرح ہم سناتے رہے سب کو تازہ غزل ترجمان شکستہ دلی تھی مگر محفلوں میں چلی وہ شکستہ غزل آدمی کو کبھی بھول سکتی نہیں زندگی سے نبھاتی ہے رشتہ ...

مزید پڑھیے

اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے

اس کی صورت اس کی آنکھیں اس کا چہرا بھول گئے جس رستے پر برسوں بھٹکے ہم وہ رستا بھول گئے تیز ہوا کے ظالم جھونکے لمحہ لمحہ ساتھ رہے لمحہ لمحہ اک مدت تک درد جو اٹھا بھول گئے صحرا صحرا چلتے چلتے کچھ ایسے مانوس ہوئے اپنے اپنے شہر کا راہی گوشہ گوشہ بھول گئے پگڈنڈی جو رنج و الم کو جاتی ...

مزید پڑھیے

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے

آج مجھے کچھ لوگ ملے ہیں پاگل سے شہر میں وحشی در آئے کیا جنگل سے سارے مسائل لا ینحل سے لگتے ہیں نکلوں کیسے سوچ کی گہری دلدل سے برف نما سی تاروں کی چنچل کرنیں چھن کر نکلیں رات کے کالے آنچل سے ذہن سے یوں ہے فکر و نظر کا اب رشتہ پنگھٹ کو اک ربط ہو جیسے چھاگل سے یاد کی خوشبو دل کے نگر ...

مزید پڑھیے

جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے

جب زمیں کے مقدر سنور جائیں گے آسماں سے فرشتے اتر آئیں گے کیسے پھیلیں گے وہ لوگ افق تا افق اپنے اندر سمٹ کر جو رہ جائیں گے چاندنی موج در موج لہرائے گی عکس تاروں کے پانی سے تھرائیں گے بارش سنگ کرتے چلے جائیں وہ ہم لہو رو کے بھی پھول برسائیں گے کانچ کا جسم لے کر کسی شہر میں وہ اگر ...

مزید پڑھیے

ہر دم دعائے آب و ہوا مانگتے رہے

ہر دم دعائے آب و ہوا مانگتے رہے ننگے درخت سبز قبا مانگتے رہے یاروں کا اعتقاد بھی اندھا تھا اس قدر گونگی روایتوں سے صدا مانگتے رہے کتنی عجیب بات تھی جب سرد رات سے ہم دوپہر کی گرم ہوا مانگتے رہے کرتے رہے جو دن کے اجالوں سے احتراز وہ بھی اندھیری شب میں ضیا مانگتے رہے کچھ لوگ ...

مزید پڑھیے

ہر منظر خوش رنگ سلگ جائے تو کیا ہو

ہر منظر خوش رنگ سلگ جائے تو کیا ہو شبنم بھی اگر آگ ہی برسائے تو کیا ہو احساس کی قندیل سے اذہان ہیں روشن لیکن یہ اجالا بھی جو کجلائے تو کیا ہو سورج کی تمازت سے جھلس جاتی ہے دنیا سورج مرے قدموں پہ اتر آئے تو کیا ہو زر تابیٔ افکار تو پہلے ہی سے ہے ماند الفاظ کا آئینہ بھی دھندلائے ...

مزید پڑھیے

انداز گفتگو کو بھی تکرار مت بتا

انداز گفتگو کو بھی تکرار مت بتا ہرگز زباں کو تیر و تلوار مت بتا اس زندگی کو ڈر کے مصائب کی دھوپ سے راحت کی چھاؤں کے لئے غم خوار مت بتا زر زن زمین اصل میں تینوں ہیں فتنہ گر حرص و ہوس کا دل کو طلب گار مت بتا نادان دل کو ظرف سے خالی دماغ کو اپنا رفیق اپنا مددگار مت بتا انورؔ نشاط و ...

مزید پڑھیے

ہے ذکر یہی ہر سو اب عمر درازوں میں

ہے ذکر یہی ہر سو اب عمر درازوں میں کھوئی ہوئی دنیا ہے یہ شعبدہ بازوں میں اس لے سے ترنم سے میں کیسے بہل جاؤں آواز نہیں باقی جب دل کے ہی سازوں میں سجدے ہوں نمائش کے پھر کیسے اثر ہوگا مالک پہ دعاؤں کا بندے کی نمازوں میں میت میں امیروں کی اک جشن سا رہتا ہے لوگوں کی کمی کیوں ہے غربا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4070 سے 4657