شاعری

جانتے ہی نہیں خوشی کیا ہے

جانتے ہی نہیں خوشی کیا ہے غم کے ماروں کی زندگی کیا ہے فیصلہ کر دیا زمانے نے دوستی کیا ہے دشمنی کیا ہے ماسوا اک حسین غفلت کے باغ میں پھول کی ہنسی کیا ہے ایک کے غم کو دوسرا سمجھے اور منشائے دوستی کیا ہے جانتے ہیں تمہارے دیوانے عظمت چاک دامنی کیا ہے زلف و رخسار ساغر و مینا جانے ...

مزید پڑھیے

یوں ہی کب تک مری تقدیر میں بل آئیں گے

یوں ہی کب تک مری تقدیر میں بل آئیں گے آج کی بات پہ کہتے ہو کہ کل آئیں گے پاؤں جب جذب محبت کے نکل آئیں گے وادیٔ حسن و جوانی میں خلل آئیں گے چل تو لے کر ہمیں اے مستیٔ ذوق سجدہ منہ پہ خاک در محبوب ہی مل آئیں گے حوصلہ شرط ہے حالات سے مایوس نہ ہو راستے خود ہی چٹانوں سے نکل آئیں ...

مزید پڑھیے

زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے

زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے جس کو دیکھو وہ پریشان ہے قصہ کیا ہے زلف عارض پہ پریشان ہے قصہ کیا ہے سایۂ کفر میں ایمان ہے قصہ کیا ہے آج کے دور میں بس چاک گریباں ہونا تیرے دیوانوں کی پہچان ہے قصہ کیا ہے یا ترے حسن کی تنویر سے روشن ہے جہاں یا مرے عشق کا عرفان ہے قصہ کیا ہے زہد ...

مزید پڑھیے

بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے

بیتابیٔ دل شوق کا اظہار نہ کر دے اس شوخ کو الفت سے خبردار نہ کر دے گر یہ ہی فراوانیاں ہیں درد و الم کی یہ عشق کہیں جینے سے بیزار نہ کر دے ہے ان کو شفا پرسش در پردہ سے منظور ڈر ہے یہ مجھے اور بھی بیمار نہ کر دے وہ پوچھتے ہیں ہے تجھے کیا مجھ سے محبت میرا دل ناداں کہیں اقرار نہ کر ...

مزید پڑھیے

اس بزم میں میرا کوئی دم ساز نہیں ہے

اس بزم میں میرا کوئی دم ساز نہیں ہے شاہیں ہوں مگر طاقت پرواز نہیں ہے اے ذوق طلب مجھ کو تری داد کا شکوہ مانا کہ ابھی تو مرا ہم راز نہیں ہے تکمیل طلب ہے ابھی الفت کا فسانہ شوخی نہیں وحشت نہیں انداز نہیں ہے جنت سے چلی آئے اگر حور تو بے کار وہ ناز نہیں اس میں وہ انداز نہیں ہے ہنگامۂ ...

مزید پڑھیے

وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا

وہ پردے سے نکل کر سامنے جب بے حجاب آیا جہان عشق میں یک بارگی اک انقلاب آیا زمیں کے ذرہ ذرہ سے نمایاں ہو گئے جلوے سر گلزار وہ رشک قمر جب بے حجاب آیا مکرر زندگانی کا مزا ہو جائے گا حاصل دم آخر بھی قاصد لے کے گر خط کا جواب آیا مقدر سے مرے دونوں کے دونوں بے وفا نکلے نہ عمر بے وفا پلٹی ...

مزید پڑھیے

رنگیں بنا کے دامن زخم جگر کو میں

رنگیں بنا کے دامن زخم جگر کو میں گلزار کر رہا ہوں فضائے نظر کو میں گاتا ہوں ساز دل پہ ترانے سحر کو میں بیدار کر رہا ہوں کسی فتنہ گر کو میں ملزم نظر ہے یا سر شوریدہ کا قصور کعبہ سمجھ رہا ہوں ترے سنگ در کو میں چن کر گل نیاز قریب بساط دل باغ ارم بناتا ہوں داغ جگر کو میں وحشی بنا ہوا ...

مزید پڑھیے

آباد اب نہ ہوگا مے خانہ زندگی کا

آباد اب نہ ہوگا مے خانہ زندگی کا لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا آ خواب میں کسی دن اے رشک ماہ تاباں کر دے ذرا منور کاشانہ زندگی کا وہ تازہ داستاں ہوں مرنے کے بعد ان کو آئے گا یاد میرا افسانہ زندگی کا پردہ ذرا اٹھا دے بانکی اداروں والے افسانہ کہنے آیا دیوانہ زندگی کا امیدیں مٹ ...

مزید پڑھیے

سنتا ہے میرے ہم نشیں کہتی ہے یہ بہار کیا

سنتا ہے میرے ہم نشیں کہتی ہے یہ بہار کیا پھولوں سے دوستی نہ کر پھولوں کا اعتبار کیا بازئ دل کی مات پر بڑھ گئے اور حوصلے حسن کی جیت جیت کیا عشق کی ہار ہار کیا حسن پہ ناز کیجئے آپ مگر نہ بھولیے حسن تو چڑھتی دھوپ ہے دھوپ کا اعتبار کیا دے کے چمن کو اپنا خوں مانگتا کب ہوں خوں بہا میں ...

مزید پڑھیے

پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے

پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے وہ آدمی نہیں جو آدمی کا ساتھ نہ دے چراغ وہ ہے اندھیروں کو جو کرے روشن وہ کیا چراغ ہے جو روشنی کا ساتھ نہ دے چمن میں اب تو یہ حالت ہے ہم نشینوں کی کہ جیسے کوئی قفس میں کسی کا ساتھ نہ دے اندھیرا چھا نہیں سکتا کبھی اجالے پر تمہاری زلف اگر تیرگی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4049 سے 4657