شاعری

ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر

ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر ہنستا ہوں اپنا چاک گریبان دیکھ کر پھولوں کا رنگ و روپ نکھرتا چلا گیا نازک لبوں پہ آپ کے مسکان دیکھ کر اک بے وفا کا پیار مجھے یاد آ گیا دور خزاں میں باغ کو ویران دیکھ کر چلتے ہیں جب وہ ناز سے کہتی ہے یوں بہار اے دل ربا سنبھل کے مری جان دیکھ ...

مزید پڑھیے

کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے

کوئی خوش ہے کوئی ناکام ہے ایسا کیوں ہے ہے کہیں صبح کہیں شام ہے ایسا کیوں ہے جن کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا میں کانٹے کی طرح ان کے ہونٹوں پہ مرا نام ہے ایسا کیوں ہے چاہے جس کی ہو خطا کوئی بھی مجرم ہو مگر ترے دیوانوں پہ الزام ہے ایسا کیوں ہے حسن کی انجمن آرائیاں تسلیم مگر عشق آوارہ و ...

مزید پڑھیے

جو جل اٹھی ہے شبستاں میں یاد سی کیا ہے

جو جل اٹھی ہے شبستاں میں یاد سی کیا ہے یہ جھلملاہٹیں کیا ہیں یہ روشنی کیا ہے کسی سے ترک تعلق کے بعد بھی ملنا برا ضرور ہے لیکن کبھی کبھی کیا ہے اب اپنے حال پہ ہم دھیان ہی نہیں دیتے نہ جانے بے خبری ہے کہ آگہی کیا ہے یہی سوال نہیں ہے فقط کہ ہم کیا ہیں یہ کائنات ہے کیا اور زندگی کیا ...

مزید پڑھیے

عبور کر نہ سکے ہم حدیں ہی ایسی تھیں

عبور کر نہ سکے ہم حدیں ہی ایسی تھیں قدم قدم پہ یہاں مشکلیں ہی ایسی تھیں وہ مجھ سے روٹھ نہ جاتی تو اور کیا کرتی مری خطائیں مری لغزشیں ہی ایسی تھیں کہیں دکھائی دئے ایک دوسرے کو ہم تو منہ بگاڑ لیے رنجشیں ہی ایسی تھیں بہت ارادہ کیا کوئی کام کرنے کا مگر عمل نہ ہوا الجھنیں ہی ایسی ...

مزید پڑھیے

ختم ہر اچھا برا ہو جائے گا

ختم ہر اچھا برا ہو جائے گا ایک دن سب کچھ فنا ہو جائے گا کیا پتا تھا دیکھنا اس کی طرف حادثہ اتنا بڑا ہو جائے گا مدتوں سے بند دروازہ کوئی دستکیں دینے سے وا ہو جائے گا ہے ابھی تک اس کے آنے کا یقین جیسے کوئی معجزہ ہو جائے گا مسکرا کر دیکھ لیتے ہو مجھے اس طرح کیا حق ادا ہو جائے ...

مزید پڑھیے

اکیلے کیا پس دیوار و در گئے ہم تم

اکیلے کیا پس دیوار و در گئے ہم تم سگان خفتہ کو ہشیار کر گئے ہم تم قدم قدم پہ عجب بے حیا نگاہوں کا حصار سا نظر آیا جدھر گئے ہم تم گلوں نے خوب پذیرائی کی کہ بھولے سے کسی چمن میں نہ بار دگر گئے ہم تم امید وصل کے دن کٹ گئے بھٹکنے میں نہ ہوٹلوں پہ یقیں تھا نہ گھر گئے ہم تم ہوائے دہر نے ...

مزید پڑھیے

کیا بے مروتی کا شکوہ گلہ کسی سے

کیا بے مروتی کا شکوہ گلہ کسی سے خود ہم نے کب وفا کی اپنے سوا کسی سے اس ہاتھ سے وصولی اس ہاتھ سے ادائی پہنچا دیا کسی کو جو کچھ ملا کسی سے معلوم ہے ہمیں ہم کتنے پڑھے لکھے ہیں یہ سن لیا کسی سے وہ سن لیا کسی سے اس دور میں کہاں یہ آزادئ عمل تھی چوری چھپے ہمارا تھا سلسلہ کسی سے سب ایک ...

مزید پڑھیے

یہ خود کو دیکھتے رہنے کی ہے جو خو مجھ میں

یہ خود کو دیکھتے رہنے کی ہے جو خو مجھ میں چھپا ہوا ہے کہیں وہ شگفتہ رو مجھ میں مہ و نجوم کو تیری جبیں سے نسبت دوں اب اس قدر بھی نہیں عادت غلو مجھ میں تغیرات جہاں دل پہ کیا اثر کرتے ہے تیری اب بھی وہی شکل ہو بہ ہو مجھ میں رفوگروں نے عجب طبع آزمائی کی رہی سرے سے نہ گنجائش رفو مجھ ...

مزید پڑھیے

یہ تنہائی یہ عزلت اے دل اے دل

یہ تنہائی یہ عزلت اے دل اے دل جوانی میں یہ حالت اے دل اے دل نگر ہوتا تو کوئی بات بھی تھی بیاباں میں یہ وحشت اے دل اے دل بھلا کیا اس بھری دنیا میں تنہا وہی ہے خوب صورت اے دل اے دل کسے ہوتی نہیں اس کی ضرورت مگر اتنی ضرورت اے دل اے دل زمانہ چاہئے دل جیتنے کو یہ بے تابی یہ عجلت اے دل ...

مزید پڑھیے

میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی

میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی سب کی طرح دیکھنا جبر تھا عادت نہ تھی ایسا لگا جیسے میں منظر مانوس تھا اس کی نگاہوں میں کل شوخیٔ حیرت نہ تھی میرے شب و روز تھے میری صدی کی طرح کون سا لمحہ تھا وہ جس میں قیامت نہ تھی پیرہن جسم و جاں زخم ستم تھا تمام کیسا ستم گر تھا وہ کوئی جراحت نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4050 سے 4657