شاعری

حالت حرف کس نے جانی ہے

حالت حرف کس نے جانی ہے یہ جہاں خوگر معانی ہے کیا لگے قیمت قبائے سخن یہ نئی ہو کے بھی پرانی ہے ایک دنیا تھی، جس کے ملبے سے ایک دنیا مجھے بنانی ہے راہ میں ہے بدن کی اک دیوار جو مجھے ناخنوں سے ڈھانی ہے یہ جہاں رقص میں نہیں یونہی سب مرے خون کی روانی ہے اور کچھ دن ہے یہ فریب ...

مزید پڑھیے

کچھ ایسے زخم زمانہ کا اندمال کیا

کچھ ایسے زخم زمانہ کا اندمال کیا کبھی نماز پڑھی اور کبھی دھمال کیا لگائی ضرب شدید اپنے دل پہ مستی میں خدا سے ٹوٹا ہوا رابطہ بحال کیا اسی کی بات لکھی چاہے کم لکھی ہم نے اسی کا ذکر کیا چاہے خال خال کیا لو ہم نے ڈھال لیا خود کو اس کے پیکر میں لو ہم نے ہجر کے عرصے کو بھی وصال ...

مزید پڑھیے

نفس کی آمد و شد کو وبال کر کے بھی

نفس کی آمد و شد کو وبال کر کے بھی وہ خوش نہیں ہے ہمارا یہ حال کر کے بھی عجب تھا نشۂ وارفتگیٔ وصل اسے وہ تازہ دم رہا مجھ کو نڈھال کر کے بھی ہمیں عزیز ہمیشہ رہی ہے نسبت خاک یہ سر جھکا رہا کسب کمال کر کے بھی لو ہم نہ کہتے تھے ہم کو نہیں امید جواب لو ہم نے دیکھ لیا ہے سوال کر کے بھی یہ ...

مزید پڑھیے

اس لیے تیری ہوئی دشت ہنسائی بھائی

اس لیے تیری ہوئی دشت ہنسائی بھائی تو نے جلدی میں ذرا خاک اڑائی بھائی آخر کار کوئی عذر اسے مل ہی گیا یہ محبت بھی کسی کام نہ آئی بھائی میں ہوں کونے میں پڑا ٹوٹا ہوا کنگن اور زندگی ایک حسینہ کی کلائی بھائی تب مرا سارا بدن کان میں تبدیل ہوا جب کسی نے مجھے آواز لگائی بھائی اول اول ...

مزید پڑھیے

رکھے ہیں چاک زماں پر فنا بقا اور میں

رکھے ہیں چاک زماں پر فنا بقا اور میں امڈ رہے ہیں تماشائے ناروا اور میں پھر ایک روز خلا بھر گیا تھا کمرے میں کہ جذب ہو گئے دیوار میں صدا اور میں چراغ بجھتے رہے اور شہر جلتے رہے سکوت اوڑھ کے بیٹھے رہے خدا اور میں یہ دشت آج بھی ہم سے ہے بے خبر افسوس کہاں کی خاک اڑاتے رہے ہوا اور ...

مزید پڑھیے

''دل مضطر کو سمجھایا بہت ہے'' (ردیف .. ے)

''دل مضطر کو سمجھایا بہت ہے'' ہوا تنہا تو گھبرایا بہت ہے مبارک ہو تجھے یہ قصر رنگیں مجھے دیوار کا سایہ بہت ہے مرے دل کا یہ عالم بھی عجب ہے کہ جس پر آ گیا آیا بہت ہے ترے اس پھول سے چہرے نے اب کے مرے زخموں کو مہکایا بہت ہے ترے وعدوں میں شاید کچھ کمی ہے افق پر چاند گہنایا بہت ہے یہ ...

مزید پڑھیے

پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو

پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو دل دیوانہ مچلتا ہے مچل جانے دو ڈال دو تم مری آنکھوں میں شرابی آنکھیں میری حسرت مرے ارمان نکل جانے دو تم تو اپنے رخ روشن سے ہٹا دو آنچل چاندنی رات جو ڈھلتی ہے تو ڈھل جانے دو راز کھل جائے گا گلشن کے نگہبانوں کا اے بہارو ہمیں گلشن سے نکل جانے ...

مزید پڑھیے

رسوائیوں کا میری تماشہ نہ کیجئے

رسوائیوں کا میری تماشہ نہ کیجئے للہ اپنے آپ کو رسوا نہ کیجئے ہر ظلم پر وفا کا تقاضہ نہ کیجئے مہنگا پڑے گا آپ پہ سودا نہ کیجئے ہنسئے نہ آپ یوں مرے حال تباہ پر تاریک زندگی میں اجالا نہ کیجئے کانٹوں سے رسم و راہ کا گر حوصلہ نہ ہو پھولوں کی اپنے دل میں تمنا نہ کیجئے کچھ مشکلات راہ ...

مزید پڑھیے

کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی

کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی قبول ہوگا کسی دن سلام اپنا بھی کبھی تو ہم بھی رگ گل سے کاٹ دیں پتھر جہاں میں کچھ تو ہو مشہور نام اپنا بھی کوئی تو جھانکے گا میری طرف دریچے سے کسی نگاہ میں ہوگا مقام اپنا بھی اس آرزو میں سر راہ بیٹھ جاتا ہوں وہاں سے لائے گا قاصد پیام اپنا ...

مزید پڑھیے

مرتبے حسن کے کم ہوں یہ ضروری تو نہیں

مرتبے حسن کے کم ہوں یہ ضروری تو نہیں آپ کی بزم میں ہم ہوں یہ ضروری تو نہیں وہ تو مقسوم ہی کچھ اور ہوا کرتے ہیں سب کی تقدیر میں غم ہوں یہ ضروری تو نہیں یوں بھی دیوانے سر راہ بھٹک سکتے ہیں آپ کی زلف میں خم ہوں یہ ضروری تو نہیں آشنا مفلس و نادار کی مجبوری سے ذہن ارباب کرم ہوں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4048 سے 4657