شاعری

کبھی بچھائی غزل تو کبھی لحاف کیا

کبھی بچھائی غزل تو کبھی لحاف کیا فقیر نے اسی خوشیوں کو بس غلاف کیا مصافحے بھی ہوئے اور معانقے بھی رہے پس خلوص تھا کیا کس نے انکشاف کیا پسند آیا تو خوش ہو کے ہاتھ کاٹ لئے ہنر کا یوں بھی زمانے نے اعتراف کیا نظر بچا کے گزرنا ترا کمال نہیں یہ کار نیک تو سب نے مرے خلاف کیا دکھائی ...

مزید پڑھیے

زمانہ اپنی ہی صورت پہ مرنے لگ جائے

زمانہ اپنی ہی صورت پہ مرنے لگ جائے تو کیا اب آئینہ خود سے مکرنے لگ جائے کسی صدا میں وہ آہنگ انقلاب تو ہو کہ خار زاروں کی دنیا سنورنے لگ جائے ہمیں یہ دھیان تو رکھنا تھا باد و باراں سے قبل کہ سیل آب نہ سر سے گزرنے لگ جائے ستارہ اب کوئی دیوار شب میں در تو کرے اجالا دشت سیہ میں اترنے ...

مزید پڑھیے

فرق کیا ہے یہ من و تو کے بیچ

فرق کیا ہے یہ من و تو کے بیچ ایک سے دوسری خوشبو کے بیچ ہم چلے بھی کہ وہیں پر ہیں کھڑے محمل و ناقہ کے جادو کے بیچ فاصلہ کتنا بڑھا مڑ کے تو دیکھ منصفی اور ترازو کے بیچ اک بڑا فرق ہے معصومی کا دشت اور شہر کے آہو کے بیچ لوگ جینے پہ نہ مامور تھے کب خنجر و مہر ہلاکو کے بیچ لوگ کس عشق ...

مزید پڑھیے

ہوا کبھی یوں بھی اٹھلاتی آتی تھی

ہوا کبھی یوں بھی اٹھلاتی آتی تھی پائل سے سنتور بجاتی آتی تھی ایسا خشک کنارا یہ ساحل کب تھا ندی یہاں تک بھی لہراتی آتی تھی ایک ستارا جگ مگ کرتا تھا چھت پر کرن زمیں تک بدن چراتی آتی تھی وحشی اپنی دھول اڑاتا جاتا تھا خلق خدا نیزے لہراتی آتی تھی کھلے ہوئے گلزار سی کوئی خوش ...

مزید پڑھیے

کوئی چھو جاتا ہے کون ہے یہ

کوئی چھو جاتا ہے کون ہے یہ خوشبو کہ ہوا ہے کون ہے یہ یہ تو جو نہیں تجھ سا سندر سر شاخ کھلا ہے کون ہے یہ میں اتنا جگ مگ کیسے ہوں یہ کس کی ادا ہے کون ہے یہ یہ جو سانس کی لے پہ ہے رقص کناں تو ہے کہ ہوا ہے کون ہے یہ منظر منظر چہکار کے جو مجھے کھینچ رہا ہے کون ہے یہ یہ ہار سنگھار سی ساج ...

مزید پڑھیے

ماہ تاباں تری تصویر بناتے ہوئے تھے

ماہ تاباں تری تصویر بناتے ہوئے تھے دل سے پیوست کوئی تیر بناتے ہوئے تھے لوگ جس دشت میں شمشیر بناتے ہوئے تھے ہم وہاں لحن مزامیر بناتے ہوئے تھے اور کیا خاک پہ انگشت سے خط کھینچتے تھے کشت دلگیر کو کشمیر بناتے ہوئے تھے کھارے پانی سے کیا کرتے تھے بلور کشید دانۂ شور سے اکسیر بناتے ...

مزید پڑھیے

تیری خاطر اے دل بیتاب ہیں برباد ہم

تیری خاطر اے دل بیتاب ہیں برباد ہم پھر رہے ہیں مارے مارے چار سو ناشاد ہم جا کے بزم یار میں خود ہی ہوئے ہیں جب اسیر کس طرح لائیں زباں پر شکوۂ بیداد ہم جس کی خاطر اہل دنیا کی نگاہوں سے گرے خون دل سے لکھ رہے ہیں آج وہ روداد ہم آج تک جس نے کسی پر رحم کھایا ہی نہیں اس پہ ہوتا کیا اثر ...

مزید پڑھیے

شعلہ مری آنکھوں سے عیاں کیوں نہیں ہوتا

شعلہ مری آنکھوں سے عیاں کیوں نہیں ہوتا ایسا ابھی اے سوز نہاں کیوں نہیں ہوتا آیا ہوں صنم خانے میں کعبہ سے نکل کر حاصل مجھے دیدار بتاں کیوں نہیں ہوتا جب پرسش احوال پہ مائل ہیں وہ خود ہی حال دل بیتاب بیاں کیوں نہیں ہوتا ہر وقت تصور میں رہا کرتا ہوں پھر بھی آباد مرے دل کا جہاں کیوں ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں کس سے کہوں کہنے کا کچھ حاصل نہیں

کیا کہوں کس سے کہوں کہنے کا کچھ حاصل نہیں جب سے دیکھا ہے انہیں قابو میں میرا دل نہیں لطف کیا پینے کا آئے گا بھلا اے مے کشو مے تو ہے موجود لیکن ساقئ محفل نہیں تیرے آنے سے وہ کیا محفوظ ہو اے فصل گل جس کو دنیا میں میسر ہی سکون دل نہیں میری گردن پر چھری یہ کہہ کر اس نے پھیر دی مجرم ...

مزید پڑھیے

دل کسی سے لگا کے دیکھ لیا

دل کسی سے لگا کے دیکھ لیا چوٹ پر چوٹ کھا کے دیکھ لیا رحم کس خوش نصیب پر آیا کس کو چلمن اٹھا کے دیکھ لیا چین آتا نہیں کسی پہلو تم نے مجھ کو ستا کے دیکھ لیا تیرے ارمان کے سوا کیا ہے دل کی دنیا میں آ کے دیکھ لیا بے وفا کون با وفا ہے کون آپ نے آزما کے دیکھ لیا عمر رفتہ کی یاد آ ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4040 سے 4657