شاعری

اپنے احباب کو اشعار سنانے نکلا

اپنے احباب کو اشعار سنانے نکلا میں بھی کن لوگوں میں سر اپنا کھپانے نکلا بعد کوشش بھی نہ دیدار کی صورت نکلی چاند بدلی سے کسی اور بہانے نکلا اس کو تعلیم و محبت کی ضرورت ہے ابھی کم سنی میں یہ جو بے چارہ کمانے نکلا چاند کو دیکھ کے تارہ بھی بدل کر پوشاک بزم احباب میں رنگ اپنا جمانے ...

مزید پڑھیے

کچھ مری سن کچھ اپنی سنا زندگی

کچھ مری سن کچھ اپنی سنا زندگی درد دل اور تھوڑا بڑھا زندگی زندگانی کے فن سے ہوں لا علم میں زندگی کرنا مجھ کو سکھا زندگی تو نے اب تک وفا کی بہت شکریہ شکریہ شکریہ شکریہ زندگی ہر قدم ٹھوکریں زخم ہر گام ہیں کب تلک دوں بتا خوں بہا زندگی یہ کیا ہر گام بس لن ترانی وہی گیت کوئی نیا ...

مزید پڑھیے

زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیے

زہراب تشنگی کا مزہ ہم سے پوچھیے گزری ہوئی صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے اک پل خیال یار میں ہم منہمک رہے اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھیے شہرت کی بے خودی کا مزہ آپ جانیے عزت کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے کیف و نشاط جس سے ملا ہم کو بارہا اس کرب آگہی کا مزہ ہم سے پوچھیے فکر جہاں ہے اور ...

مزید پڑھیے

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا

دل کیا کسی کی بات سے اندر سے کٹ گیا تتلی کا رابطہ کیوں گل تر سے کٹ گیا دو چار گام کا ہی سفر رہ گیا تھا بس اس وقت میرا قافلہ رہبر سے کٹ گیا موسم کے سرد و گرم کا جل پر اثر نہ تھا وہ سنگ دل بھی شعر سخنور سے کٹ گیا صف میں مخالفوں کی میں سمجھا تھا غیر ہیں دیکھا جو اپنے لوگوں کو اندر سے ...

مزید پڑھیے

باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے

باغباں کی بے رخی سے نیلے پیلے ہو گئے خار کی مانند اب گل بھی نکیلے ہو گئے بہتے دریا سے سبھی سیراب ہیں لیکن مجھے صرف اک قطرہ ملا بس ہونٹ گیلے ہو گئے مے کشوں نے بس قدم رکھا تھا صحن باغ میں پھول پتے بیل بوٹے سب نشیلے ہو گئے ایک ہی آدم سے ہیں لیکن سیاست کے نثار کس قدر فرقے بنے کتنے ...

مزید پڑھیے

رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں

رہتی ہے صبا جیسے خوشبو کے تعاقب میں کچھ یوں ہی زمانہ ہے اردو کے تعاقب میں لوٹے نہیں اب تک وہ برسوں ہوئے نکلے تھے پازیب کی چاہت میں گھنگرو کے تعاقب میں اک جادو کی ڈبیا ہے جو ان کا کھلونا ہے بچے نہیں رہتے اب جگنو کے تعاقب میں معصوم سی آنکھوں سے اک بوند ہی ٹپکی تھی بادل امڈ آئے ہیں ...

مزید پڑھیے

الفاظ کے پتھر کیا پھینکے گئے پانی میں

الفاظ کے پتھر کیا پھینکے گئے پانی میں طوفان سا برپا ہے دریائے معانی میں خوشیوں کے فسانے ہی دہرائے نہیں جاتے ہیں رنج کے چھینٹے بھی گھر گھر کی کہانی میں جادو ہی غضب کا تھا عکس رخ زیبا کا کیوں آگ نہ لگ جاتی بہتے ہوئے پانی میں دونوں ہی قبیلوں نے پیمان وفا باندھے لوٹ آئی وفا پھر سے ...

مزید پڑھیے

ہجوم غم زدگاں صبر سے مکر نہیں جائے

ہجوم غم زدگاں صبر سے مکر نہیں جائے اور اتہام اسی بے بسی کے سر نہیں جائے نکلنے ہی کو ہے مہتاب بادلوں سے ابھی یہ انتظار اسی آسرے پہ مر نہیں جائے بہت ضروری دیوں کا ہواؤں سے ہے بچاؤ کہ ساز باز ہوس کچھ کمال کر نہیں جائے میں پھول بانٹنے نکلوں تو ڈر بھی ساتھ پھرے لہو سے کاسۂ گل بے ...

مزید پڑھیے

کیا ضروری ہے کہ بس شور و شغب میں رہا جائے

کیا ضروری ہے کہ بس شور و شغب میں رہا جائے بھیڑ کے ساتھ چلیں اور عقب میں رہا جائے مجھ میں دریا مرا کیوں جوش پہ اب آتا نہیں کب تلک صبر سے گرداب ادب میں رہا جائے کوئی تدبیر کہ یہ دشت بھی ہو باغ جناں کچھ تو اس خاک کے بھی خیر طلب میں رہا جائے کوئی غوغا ہی اٹھا چاہیے ویرانۂ شب حبس یہ ...

مزید پڑھیے

خبر نہیں وہ ضیا بار کرنے آیا تھا

خبر نہیں وہ ضیا بار کرنے آیا تھا کہ اور راستے دشوار کرنے آیا تھا وہ سب کو حق کا طرف دار کرنے آیا تھا کہ اپنا حاشیہ بردار کرنے آیا تھا مجھے چڑھا دیا ان سب نے مل کے سولی پر میں جن کو نیند سے بیدار کرنے آیا تھا سلگ رہی ہے جو بستی کوئی سبب ہوگا فضا کو کوئی تو بیمار کرنے آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4039 سے 4657