شاعری

یہ حکایت تمام کو پہنچی

یہ حکایت تمام کو پہنچی زندگی اختتام کو پہنچی رقص کرتی ہوئی نسیم سحر صبح تیرے سلام کو پہنچی روشنی ہو رہی ہے کچھ محسوس کیا شب آخر تمام کو پہنچی شب کو اکثر کلید مے خانہ شیخ عالی مقام کو پہنچی شہر کب سے حصار درد میں ہے یہ خبر اب عوام کو پہنچی پہلے دو ایک قتل ہوتے تھے نوبت اب قتل ...

مزید پڑھیے

مدت کے بعد سوچ میں غلطاں ہوا تو کیا

مدت کے بعد سوچ میں غلطاں ہوا تو کیا اپنے کیے پہ آپ ہی حیراں ہوا تو کیا اک پاس رسم تھا جسے ہم نے نبھا دیا اب وہ کیے پہ اپنے پشیماں ہوا تو کیا یہ سب ادائیں حسن کی ہیں عشق کے لیے کتنا ہی پر فسوں رخ خوباں ہوا تو کیا یہ حسن سنگ بھی بت زیبا کے دم سے ہے نیلم ہوا تو کیا کوئی مرجاں ہوا تو ...

مزید پڑھیے

بھیگے موسم سے لپٹنے کا نتیجہ نکلا

بھیگے موسم سے لپٹنے کا نتیجہ نکلا اپنا ارمان بھی کاغذ کا کھلونا نکلا رات کے آخری حصے میں یہ دیکھا میں نے تیرگی چیر کے سورج کا اجالا نکلا چور ہیرے کا سمجھتی رہی دنیا جس کو اس کی مٹھی سے تو تسبیح کا دانہ نکلا بس میں جب کر نہ سکا اس کو کسی منتر سے جان ناگن سے چھڑا کر وہ سپیرا ...

مزید پڑھیے

بے وفا با وفا نہیں ہوتا

بے وفا با وفا نہیں ہوتا ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اب زمانے میں ایک بھی سجدہ زیر خنجر ادا نہیں ہوتا سنتے آئے ہیں سر ہتھیلی پر رکھنے والا فنا نہیں ہوتا چوک جاتے تھے بات ہے کل کی اب نشانہ خطا نہیں ہوتا جو برا سوچتے ہیں اوروں کا ان کا اپنا بھلا نہیں ہوتا بعد لٹنے کے یہ ہوا ...

مزید پڑھیے

کبھی ہاتھوں میں اپنے کاسۂ ذلت نہیں لے گا

کبھی ہاتھوں میں اپنے کاسۂ ذلت نہیں لے گا جو ہے خوددار وہ خیرات کی دولت نہیں لے گا جسے خانہ بدوشوں کی طرح جینے کی عادت ہے کہیں بھی مستقل سر پر وہ کوئی چھت نہیں لے گا ابھی پکی سڑک سے گاؤں میرا دور ہے صاحب کوئی پانی پلا کر آپ سے قیمت نہیں لے گا وہ ڈاکو ہے تو سب کچھ چھین کر لے جائے گا ...

مزید پڑھیے

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں

جب کبھی درد کے ماروں کی طرف دیکھتا ہوں میں حقیقت میں ستاروں کی طرف دیکھتا ہوں ڈوبتا ہوں تو مجھے ہاتھ کئی ملتے ہیں کتنی حسرت سے کناروں کی طرف دیکھتا ہوں چادریں ان کو میسر ہیں مگر مجھ کو نہیں میں تو سردی میں مزاروں کی طرف دیکھتا ہوں کیوں روانی لیے آیا ہے یہاں پر دریا فکر ہوتی ہے ...

مزید پڑھیے

صبح مٹی ہے شام ہے مٹی

صبح مٹی ہے شام ہے مٹی یعنی اپنا مقام ہے مٹی کس جگہ پر کروں بسیرا میں جو بھی ہے وہ قیام ہے مٹی دائمی کچھ نہیں ہے رہنے کو جس کو دیکھو دوام ہے مٹی اب تو آ اور تو سنبھال اسے دیکھ لے یہ غلام ہے مٹی لغزش زندگی سے علم ہوا موت کا ہی پیام ہے مٹی میں نے دفنا دیا ہے خواہش کو کیونکہ خواہش ...

مزید پڑھیے

سمجھ رہے تھے کہ اب آسمان برسے گا

سمجھ رہے تھے کہ اب آسمان برسے گا یہ سوچ کب تھی کہ وہ مہربان برسے گا وہ وقت دور نہیں جب زمین والوں پر مکان ٹوٹے گا اور لا مکان برسے گا تمہارے ظلم کی آندھی میں سر اٹھاتے ہوئے تمہارے سر پہ ہر اک بے زبان برسے گا گمان کہتا ہے میرا کہ ایک دن مجھ پر تری وفا تری چاہت کا مان برسے گا کسی ...

مزید پڑھیے

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو

ملنے کا امکان بنائے بیٹھے ہو کس کو دل اور جان بنائے بیٹھے ہو برسیں آخر بارش جیسے کیوں آنکھیں تم بادل مہمان بنائے بیٹھے ہو دشت کی خاک سمیٹی میں نے پلکوں سے گھر اپنا دالان بنائے بیٹھے ہو کس کے آنے کی امید میں آخر یوں رستے کو گلدان بنائے بیٹھے ہو کون کسی کی یاد بھلائی جانے کو تم ...

مزید پڑھیے

دلوں کی خاک اڑنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

دلوں کی خاک اڑنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے کسی کے جینے مرنے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تمہارے گھر کے رستے کی اداسی ختم ہو جائے مجھے گھر تک بلانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تمہیں اچھی نہیں لگتیں مری خوشیاں بتاؤ کیوں مرے ہنسنے ہنسانے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تمہیں تو چھت میسر ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3923 سے 4657