شاعری

تمہارے شہر میں کیوں خامشی ہے

تمہارے شہر میں کیوں خامشی ہے یہاں ہر آنکھ میں کیسی نمی ہے کہیں سے ڈھونڈ کر لاؤ وہ لمحہ ہماری زیست میں جس کی کمی ہے ترا معصوم لہجہ کون بھولے ترا تو بولنا ہی سادگی ہے کہیں سورج نظر آتا نہیں ہے حکومت شہر میں اب دھند کی ہے کسی کو جان دینے پر مسرت کسی کو جان لینے کی خوشی ہے جدائی ...

مزید پڑھیے

اک قدم اٹھ گیا روانی میں

اک قدم اٹھ گیا روانی میں درد پھر آ گیا کہانی میں کوئی تو چاند کو سکھاتا ہے ڈوبنا روز روز پانی میں صرف تو نے نگاہ پھیری ہے موڑ سا آ گیا کہانی میں اس کی آنکھوں میں ڈوب کر دیکھا تشنگی بڑھ گئی ہے پانی میں کچھ دیئے رات بھر رہے روشن ایک جگنو کی میزبانی میں میں اکیلا کھڑا تھا سچ کے ...

مزید پڑھیے

سن کر کتنی آنکھیں نکلیں

سن کر کتنی آنکھیں نکلیں اک پتھر میں سانسیں نکلیں آنکھوں سے اک دریا نکلا دریا سے کچھ لاشیں نکلیں غم کے بھی کچھ پھول کھلے ہیں زخموں سے بھی شاخیں نکلیں آگے آگے ناخن آئے پیچھے پیچھے بانہیں نکلیں جس کو کھویا تھا آنکھوں نے اس کو لینے یادیں نکلیں کانٹوں نے کیوں جشن منایا پھولوں ...

مزید پڑھیے

جب اس کی تصویر بنائی جاتی ہے

جب اس کی تصویر بنائی جاتی ہے سایہ سایہ دھوپ ملائی جاتی ہے پہلے اس کی آنکھیں سوچی جاتی ہیں پھر آنکھوں میں رات بتائی جاتی ہیں جس دریا میں عکس تمہارا دیکھا تھا اس دریا میں ناؤ چلائی جاتی ہے جس در سے ہم وابستہ ہیں اس در سے پانی کی بھی پیاس بجھائی جاتی ہے

مزید پڑھیے

تیرا سورج آئے گا

تیرا سورج آئے گا چھاؤں اٹھا لے جائے گا تجھ سے کوئی آئینہ کیسے آنکھ ملائے گا میرے گھر کا خالی پن تیرے ناز اٹھائے گا پلکوں پہ ٹھہرا آنسو میری یاد دلائے گا میری مٹی ساتھ میں رکھ پھول نہیں مرجھائے گا ہجر کسی بچے کی طرح پیچھے پیچھے آئے گا جاتے جاتے بولا وو زخم ابھی بھر جائے ...

مزید پڑھیے

اس کو کر کے سلام رنگ کھلے

اس کو کر کے سلام رنگ کھلے دھیرے دھیرے تمام رنگ کھلے خشک ہونٹوں پے رکھ کے آئے ہنسی کر کے یہ انتظام رنگ کھلے اس کی تصویر کی بلائیں لیں کر کے یہ اہتمام رنگ کھلے دن گزارا تھا خشک آنکھوں سے در پے آئی جو شام رنگ کھلے چھین لی پہلے میری بینائی پورا کر انتقام رنگ کھلے چپ تھے وہ ذکر غیر ...

مزید پڑھیے

مرے قدموں میں دنیا کے خزانے ہیں اٹھا لوں کیا

مرے قدموں میں دنیا کے خزانے ہیں اٹھا لوں کیا زمانہ گر چکا جتنا میں خود کو بھی گرا لوں کیا ترا چہرہ بنانے کی جسارت کر رہا ہوں میں لہو آنکھوں سے اترا ہے تو رنگوں میں ملا لوں کیا سنا ہے آج بستی سے مسافر بن کے گزرو گے اگر نکلو ادھر سے تو میں اپنا گھر سجا لوں کیا بھرا ہو دل حسد سے تو ...

مزید پڑھیے

ہے معمہ یا کہانی عشق ہے

ہے معمہ یا کہانی عشق ہے آئنے سے خود کلامی عشق ہے ہنستے ہنستے رو پڑے پھر ہنس دئے کیا یہی عادت پرانی عشق ہے اک تمنا نے جگایا تھا جنوں اس جنوں کی پاسبانی عشق ہے ذکر اس کا نامکمل ہے مگر خاموشی کی ترجمانی عشق ہے موت کے سب زاویے پڑھتی ہوئی ہم سبھی کی زندگانی عشق ہے اس کی جب شیریں ...

مزید پڑھیے

آنکھ سے تارے ٹوٹ رہے ہیں

آنکھ سے تارے ٹوٹ رہے ہیں خواب ہمارے ٹوٹ رہے ہیں ثابت ہیں آئینے لیکن عکس ہمارے ٹوٹ رہے ہیں سارے یار بچھڑ جائیں گے روز ستارے ٹوٹ رہے ہیں جگنو بن کر میں نے دیکھا کچھ اندھیارے ٹوٹ رہے ہیں ڈھونڈ رہا ہے دریا کس کو روز کنارے ٹوٹ رہے ہیں

مزید پڑھیے

مجھے دریا بنانا چاہتی ہے

مجھے دریا بنانا چاہتی ہے یہ دنیا ڈوب جانا چاہتی ہے ہماری نیند کی حسرت تو دیکھو تمہیں تکیہ بنانا چاہتی ہے تمہاری یاد صحرا کے سفر میں ہمارے ساتھ آنا چاہتی ہے ستارو کون اترا ہے زمیں پر نظر کیوں سر جھکانا چاہتی ہے سمندر سے کوئی اتنا تو پوچھے ندی کیوں سوکھ جانا چاہتی ہے ہماری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3924 سے 4657