شاعری

وہ شب غم جو کم اندھیری تھی

وہ شب غم جو کم اندھیری تھی وہ بھی میری انا کی سبکی تھی غم مری زندگی میں ٹوٹ گرا ورنہ یہ شور دار ندی تھی دن بھی شب رنگ بن گئے اپنے پہلے سورج سے آنکھ ملتی تھی کیا مقالات عاشقی پڑھتے بزم میں ہم نے آہ کھینچی تھی جل رہے تھے ہرے بھرے جنگل ایسی بے وقت آگ پھیلی تھی میں کھڑا تھا اکھڑتے ...

مزید پڑھیے

خود اپنی چال سے نا آشنا رہے ہے کوئی

خود اپنی چال سے نا آشنا رہے ہے کوئی خرد کے شہر میں یوں لاپتا رہے ہے کوئی چلا تو ٹوٹ گیا پھیل ہی گیا گویا پہاڑ بن کے کہاں تک کھڑا رہے ہے کوئی نہ حرف نفی نہ چاک ثبات درماں ہے ہر اک فریب کے اندر چھپا رہے ہے کوئی کھڑی ہیں چاروں طرف اپنی بے گنہ سانسیں صدائے درد کے اندر گھرا رہے ہے ...

مزید پڑھیے

کوئی اشارہ کوئی استعارہ کیوں کر ہو

کوئی اشارہ کوئی استعارہ کیوں کر ہو اب آسمان سخن پر ستارہ کیوں کر ہو اب اس کے رنگ میں ہے بیشتر تغافل سا اب اس سے طور شناسی کا چارہ کیوں کر ہو وہ سچ سے خوش نہ اگر ہو تو جھوٹ بولیں گے کہ وہ جو روٹھے تو اپنا گزارہ کیوں کر ہو انہیں یہ فکر کہ دل کو کہاں چھپا رکھیں ہمیں یہ شوق کہ دل کا ...

مزید پڑھیے

ترے بدن کے نئے زاویے بناتا ہوا

ترے بدن کے نئے زاویے بناتا ہوا گزر رہا ہے کوئی دائرے بناتا ہوا یہاں ستارے کو کیا لین دین کرنا تھا جو ٹوٹ پھوٹ گیا رابطے بناتا ہوا وفا پرست نہیں تھا تو اور کیا تھا وہ جو زخم زخم ہوا آئنے بناتا ہوا میں دوستوں کے اک اک امتحاں سے گزرا ہوں بکھر گیا ہوں کئی راستے بناتا ہوا سلیمؔ ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

محبتوں کا کہو اب خیال کتنا ہے

محبتوں کا کہو اب خیال کتنا ہے مری جدائی کا تم کو ملال کتنا ہے یہ تیرے بعد کھلا اے وصال شہر خیال کہ تیرے شہر میں جینا محال کتنا ہے میں ٹوٹ پھوٹ کے خود ہی سنورتا رہتا ہوں مرے خدا ترا اس میں کمال کتنا ہے ملا نہیں کوئی ایسا کہ جس کے ساتھ رہو سلیمؔ شہر میں قحط‌ الرجال کتنا ہے

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ...

مزید پڑھیے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے

میں سوچتا ہوں کہیں تو خفا نہ ہو جائے تری انا مری زنجیر پا نہ ہو جائے یہ جیتی جاگتی آنکھیں یہ خواب سی دنیا وفور شوق خود اپنی جزا نہ ہو جائے قدم قدم پہ بپا جشن امتحان وفا تری طرح کوئی درد آشنا نہ ہو جائے نہ دیکھ مجھ کو محبت کی آنکھ سے اے دوست مرا وجود مرا مدعا نہ ہو جائے میں جس کو ...

مزید پڑھیے

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے

ہنگامۂ ہستی سے گزر کیوں نہیں جاتے رستے میں کھڑے ہو گئے گھر کیوں نہیں جاتے مے خانے میں شکوہ ہے بہت تیرہ شبی کا مے خانے میں با دیدۂ تر کیوں نہیں جاتے اب جبہ و دستار کی وقعت نہیں باقی رندوں میں بہ انداز دگر کیوں نہیں جاتے جس شہر میں گمراہی عزیز دل و جاں ہو اس شہر ملامت میں خضر کیوں ...

مزید پڑھیے

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں آخری کشمکش ہے یہ شاید موج دریا میں اور سفینے میں زندگی یوں گزر گئی جیسے لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں دل کا احوال پوچھتے کیا ہو خاک اڑتی ہے آبگینے میں کتنے ساون گزر گئے لیکن کوئی آیا نہ اس مہینے میں سارے دل ایک سے نہیں ہوتے فرق ...

مزید پڑھیے

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا

زد پہ آ جائے گا جو کوئی تو مر جائے گا وقت کا کام گزرنا ہے گزر جائے گا خود اسے بھی نہیں معلوم ہے منزل اپنی جانے والے سے نہ پوچھو وہ کدھر جائے گا آج اندھیرا ہے تو کل کوئی چراغ امید مطلع وقت پہ سورج سا نکھر جائے گا اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر دار و رسن دل وہ دیوانہ کہ جائے گا مگر جائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3922 سے 4657