وہ شب غم جو کم اندھیری تھی
وہ شب غم جو کم اندھیری تھی وہ بھی میری انا کی سبکی تھی غم مری زندگی میں ٹوٹ گرا ورنہ یہ شور دار ندی تھی دن بھی شب رنگ بن گئے اپنے پہلے سورج سے آنکھ ملتی تھی کیا مقالات عاشقی پڑھتے بزم میں ہم نے آہ کھینچی تھی جل رہے تھے ہرے بھرے جنگل ایسی بے وقت آگ پھیلی تھی میں کھڑا تھا اکھڑتے ...