تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے
تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے ہم تو قائل ہیں تری قافلہ سالاری کے یہ ترے ساتھ میں رونے سے کھلا ہے مجھ پر ہیں تری آنکھ میں سب اشک اداکاری کے بے وفائی بھی اگر کی تو بتایا اس کو میں نے آداب نبھائے ہیں وفاداری کے جشن میں نے بھی منایا تھا شجر کٹنے کا اس نے وہ فائدے گنوائے مجھے ...