شاعری

تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے

تجھ کو اندازے نہیں راہ کی دشواری کے ہم تو قائل ہیں تری قافلہ سالاری کے یہ ترے ساتھ میں رونے سے کھلا ہے مجھ پر ہیں تری آنکھ میں سب اشک اداکاری کے بے وفائی بھی اگر کی تو بتایا اس کو میں نے آداب نبھائے ہیں وفاداری کے جشن میں نے بھی منایا تھا شجر کٹنے کا اس نے وہ فائدے گنوائے مجھے ...

مزید پڑھیے

جہاں سے آ گئے ہیں اس جہاں کی یاد آتی ہے

جہاں سے آ گئے ہیں اس جہاں کی یاد آتی ہے کہ ہم عریاں سروں کو سائباں کی یاد آتی ہے جہاں محفل شب میں سبھی آنکھیں بھگوتے ہیں سبھی کو اپنے اپنے رفتگاں کی یاد آتی ہے وہاں جب تک رہے تب تک یہاں کی فکر رہتی تھی یہاں جب آ گئے ہیں تو وہاں کی یاد آتی ہے یہ شہر اجنبی میں اب کسے جا کر بتائیں ...

مزید پڑھیے

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں

یہ سوچا ہی نہیں تھا تشنگی میں کہاں رکھوں گی لب میں بے بسی میں تمہاری سمت آنے کی طلب میں میں رکتی ہی نہیں ہوں بے خودی میں دل خوش فہم تجھ سے کتنے ہوں گے نثار اس کی تمنا کی گلی میں نہیں وہ اتنا بھی پاگل نہیں تھا جو مر جاتا مری وابستگی میں مجھے اب عاصمہؔ چلنا پڑے گا خود اپنے آپ ہی ...

مزید پڑھیے

انار کلی (ردیف .. ے)

انار کلی تیرے مقبرے کے احاطے میں کس قدر شور و غل ہے میں جب بھی خود کو تنہا اداس پاتی ہوں اور دفتری چائے کافی سے دل بھرنے لگے اخبار بھی الماری کے کونے کی زینت بنے کوئی کتاب بھی میرا دل نہ بہلا سکے تو میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے جہاں سے تیرا مقبرہ صاف دکھائی دیتا ہے تیرے بارے میں ...

مزید پڑھیے

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں

خود میں دھونی رمائے بیٹھی ہوں آج خود کو بھلائے بیٹھی ہوں جانے والوں کا انتظار نہیں اپنے رستے میں آئے بیٹھی ہوں اس کی آنکھوں میں ہے طلسم کوئی اپنا چہرہ لٹائے بیٹھی ہوں چاند کو طیش آ رہا ہے کہ میں کیوں نظر کو ملائے بیٹھی ہوں پھول کھلتے ہیں مجھ میں شعروں کے ایک مصرعہ سمائے ...

مزید پڑھیے

زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں

زخم کھا کے بھی مسکراتے ہیں ہم ہیں پتھر بکھر نہ پاتے ہیں کوئی پہچان ہی نہ لے ہم کو رنگ میں شام ہم ملاتے ہیں خواب کا انتظار ختم ہوا آنکھ کو نیند سے جگاتے ہیں شام کے وقت ہجرتی پتے سبز پیڑوں کا غم مناتے ہیں عاصمہؔ روشنی بھرے الفاظ اپنے اندر ہی جھلملاتے ہیں

مزید پڑھیے

بچپن کے ہیں خواب سہانے تتلی پھول اور میں

بچپن کے ہیں خواب سہانے تتلی پھول اور میں کہاں سے لائیں اب وہ زمانے تتلی پھول اور میں نفرت سے ہے نفرت ہم کو پریت ہماری ریت پیار کے ہیں انمول خزانے تتلی پھول اور میں درد رتوں کی خوشبو سانجھی ایک ہی جیسا روگ ڈھونڈ رہے ہیں ساتھ پرانے تتلی پھول اور میں جیون راہ میں کون کہاں پر ...

مزید پڑھیے

آپ بھی اس حسن کو اب پھول کہئے

آپ بھی اس حسن کو اب پھول کہئے دیکھیے نازک بدن سب پھول کہئے لگتی ہے قوس قزح عارض پہ شبنم برگ گل جیسے ہیں وہ لب پھول کہئے پھول سے ہی ہوتی ہے تمثیل اس کی رشک کرتا ہے چمن جب پھول کہئے بات میری آپ اب بھی جو نہ مانے تتلی جب چومے اسے تب پھول کہئے رات رانی بن وہ آئے خواب میں پھر مہکی ان ...

مزید پڑھیے

یہ دولت رتبہ شہرت اور یہ ایمان مٹی ہے

یہ دولت رتبہ شہرت اور یہ ایمان مٹی ہے لگایا ہاتھ تب جانا فلک بے جان مٹی ہے لگی جب آگ پتوں میں شجر تب رو پڑا غم میں کہا پھر شاخ نے ہر شے یہاں نادان مٹی ہے لکھوں میں فلسفے کی شاعری یا گیت الفت کے میں شاعر ہوں مری ہر نظم کا عنوان مٹی ہے کتاب ہجر میں میں اب لکھوں گا وصل کے قصے محبت ...

مزید پڑھیے

پاؤں کے چھالوں کی قیمت جانتا ہے بوڑھا پیڑ

پاؤں کے چھالوں کی قیمت جانتا ہے بوڑھا پیڑ اک مسافر کی مصیبت جانتا ہے بوڑھا پیڑ بوجھ لاشوں کا اٹھانا ہے اسے تو اور ابھی جو کسانوں کی ہے حالت جانتا ہے بوڑھا پیڑ گر جڑیں مضبوط ہو تو آندھیوں کا خوف کیا رکھنی ہے مٹی سے نسبت جانتا ہے بوڑھا پیڑ وہ بدلتے موسموں سے بھی کبھی ہارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3916 سے 4657