شاعری

عقل جس پہلو سے چاہے زیست سمجھائے اسے

عقل جس پہلو سے چاہے زیست سمجھائے اسے دل کا یہ عالم کہ ہر لمحے سے خوف آئے اسے دشت کا راہی بھٹک کر آ گیا ہے شہر میں قیس کوئی ہو تو اپنے ساتھ لے جائے اسے سر بہ زانو یاد کا زندانی ہے بیٹھا ہوا کوئی میٹھی یاد آئے آ کے سہلائے اسے یہ ہی سب کو درس دیتا ہے قرار و صبر کا یہ ہی بیکل ہو اٹھے ...

مزید پڑھیے

اب انتشار کی حسرت نہیں خرابے کو

اب انتشار کی حسرت نہیں خرابے کو جو آ رہے ہو تو آؤ یہ گھر بسانے کو ترا وجود مری ذات کے لئے کیا ہے خدا کا آسرا جیسے کسی ابھاگے کو زمانے بھر کے مسائل میں ایسے الجھے ہیں ہمارے حال کا کچھ غم نہیں ہمارے کو خط اس کو لکھتے اگر خط میں اس کو کیا لکھتے روانہ ہم نے تہی کر دیا لفافے کو گئی ...

مزید پڑھیے

وصل کی ضد سے اٹھیں ہجر کو رویا نہ کریں

وصل کی ضد سے اٹھیں ہجر کو رویا نہ کریں بیش قیمت ہیں یہ لمحے انہیں کھویا نہ کریں ناصحا اور بتا ہم کو کہ کیا کیا نہ کریں دن میں سویا نہ کریں رات کو جاگا نہ کریں منزل ذکر رخ یار سے آگے کچھ ہو ہم سے تو ہو نہیں سکتا اسے سوچا نہ کریں ہم کو رہنا ہے اسی قریۂ کم نظراں میں سخت مشکل ہے یہاں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے جن کی اشک نکلتے نہیں وہ لوگ

آنکھوں سے جن کی اشک نکلتے نہیں وہ لوگ رونے لگیں اگر تو سنبھلتے نہیں وہ لوگ وہ لوگ جن سے درد کا رشتہ تھا استوار دنیا بدل گئی ہے بدلتے نہیں وہ لوگ آباد جن کے دم سے ہوئے کوہ اور دشت کیا ہوتا گر گھروں سے نکلتے نہیں وہ لوگ وہ جن پے چڑھ گیا کبھی درد و الم کا رنگ بزم طرب کے رنگ میں ڈھلتے ...

مزید پڑھیے

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا

ہم کو آہ و بکا نہیں کرنا ان کو وعدہ وفا نہیں کرنا ہم پہ الزام ہے اداسی کا رد اس الزام کا نہیں کرنا تجھ سے بے شک ہمیں بچھڑنا ہے پر تیرا دل برا نہیں کرنا شیخ جی رند کو نہ سمجھائیں اس کو کیا کرنا کیا نہیں کرنا عاشقی دل لگی کا ساماں ہے ان کو قیدی رہا نہیں کرنا

مزید پڑھیے

حالات کی مسند سے اتر جائیں گے اک دن

حالات کی مسند سے اتر جائیں گے اک دن ارزانیٔ وحشت میں ہی مر جائیں گے اک دن یوں دید کو اپنی ہمیں ترساؤ نہ ورنہ مر جائیں گے مر جائیں گے مر جائیں گے اک دن یہ آس بہت ہے کہ ترے دست ستم سے جتنے بھی ملے گھاؤ ہیں بھر جائیں گے اک دن ہر شام جو آ جاتے ہیں محفل کو سجانے یہ دوست ہمارے بھی بکھر ...

مزید پڑھیے

دلبراں لوگ خوب صورت ہیں

دلبراں لوگ خوب صورت ہیں میری جاں لوگ خوب صورت ہیں پھول جن کے نثار جاتے ہیں مہرباں لوگ خوب صورت ہیں مجھ سے مت کر شعور کی باتیں سن میاں لوگ خوب صورت ہیں خاک سے تو جنہیں بناتا ہے وہ جہاں لوگ خوب صورت ہیں بستیاں جو مری جلاتے ہوں وہ کہاں لوگ خوب صورت ہیں امن کی جستجو میں نکلے ...

مزید پڑھیے

زباں تھک گئی با خدا کہتے کہتے

زباں تھک گئی با خدا کہتے کہتے تجھے بے وفا با وفا کہتے کہتے کرم گویا مجھ کو ہے دیوانگی بھی زمانہ ہوا اک ثنا کہتے کہتے الم ہیں کہ شغل فراغت کی سوغات سر انجمن چپ ہوا کہتے کہتے زباں پر یکایک لگا قفل چپ کا کسی دوسرے کو خدا کہتے کہتے دلیل محبت اسے کیا میں دیتا وہ کہنے لگا جب سنا کہتے ...

مزید پڑھیے

تم کبھی آبلے پیروں پہ سجا کر دیکھو

تم کبھی آبلے پیروں پہ سجا کر دیکھو آگہی ملتی ہے صحراؤں میں جا کر دیکھو عرصۂ خواب کے اسرار کھلیں گے تم پر اپنی آواز میں کچھ سوز رچا کر دیکھو شاخ در شاخ قیامت کا فغاں اٹھے گا پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اڑا کر دیکھو کس قدر ہوتا ہے تاراج سکون گلشن پھول سے تو ذرا تتلی کو گرا کر ...

مزید پڑھیے

بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے

بنا کر سانحہ کوئی تماشا یہ کراتا ہے فلک معصوم لوگوں کو بہت آنسو رلاتا ہے میں دل کی لاش پر نوحہ کناں ہوں اور تو ظالم بلا کر شہر داروں کو مرا چہرہ دکھاتا ہے ارے حد ہو چکی بس بے حسی یہ اہل مسند کی سر بازار لاشوں کی کوئی بولی لگاتا ہے یہاں چلتا ہے میرے شہر میں قانون جنگل کا یہاں ہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3846 سے 4657