عقل جس پہلو سے چاہے زیست سمجھائے اسے
عقل جس پہلو سے چاہے زیست سمجھائے اسے دل کا یہ عالم کہ ہر لمحے سے خوف آئے اسے دشت کا راہی بھٹک کر آ گیا ہے شہر میں قیس کوئی ہو تو اپنے ساتھ لے جائے اسے سر بہ زانو یاد کا زندانی ہے بیٹھا ہوا کوئی میٹھی یاد آئے آ کے سہلائے اسے یہ ہی سب کو درس دیتا ہے قرار و صبر کا یہ ہی بیکل ہو اٹھے ...