شاعری

مرے وجود میں پیوست غم کے تیروں کو

مرے وجود میں پیوست غم کے تیروں کو خدا بنائے رکھے ہاتھ کی لکیروں کو خود اپنے گھر میں نہیں آج عصمتیں محفوظ نگر کے بیچ بھی خطرہ ہے راہگیروں کو لہو دیا ہے چلو آج دل بھی دے آئیں دلوں کی سخت ضرورت ہے کچھ امیروں کو ہنر نہ دیکھ سکی کوئی آنکھ بھی لیکن ہمارے عیب نظر آئے بے بصیروں ...

مزید پڑھیے

ساتھ چل پڑی تنہا ساتھ رہ گئی تنہا

ساتھ چل پڑی تنہا ساتھ رہ گئی تنہا کتنی با وفا نکلی میری بے بسی تنہا وقت پھر مہرباں ہے کٹ گئے سبھی ساتھی زندگی کی راہوں میں رہ گیا کوئی تنہا آپ کی نوازش ہے آپ کی توجہ سے سرگراں ہے برسوں سے ایک اجنبی تنہا یہ جنوں کی پابندی یہ خرد کی تعزیریں کس طرح نباہے گی ایک زندگی تنہا ہر طرف ...

مزید پڑھیے

دیوانگی نے خوب کرشمہ دکھائے ہیں

دیوانگی نے خوب کرشمہ دکھائے ہیں اکثر ترے بغیر بھی ہم مسکرائے ہیں اب اے غم زمانہ ترا کیا خیال ہے ہم اپنے ساتھ لے کے غم عشق آئے ہیں مے خانے کی طرف جو بڑھے ہیں تو ہوشیار کعبہ کا رخ کیا ہے تو ہم ڈگمگائے ہیں اک صبح زر نگار کی خاطر تمام رات ہم نے کئی چراغ جلائے بجھائے ہیں ہم پر بھی رہ ...

مزید پڑھیے

چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھا

چار سو عالم امکاں میں اندھیرا دیکھا تو جدھر ہے اسی جانب کو اجالا دیکھا اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا خلوت قدس کی بے پردہ تجلی کو نہ پوچھ شوق نظارہ میں صرف آنکھ کا پردہ دیکھا آنکھ جب بند ہوئی کھل گیا راز قدرت شان‌ معبود اندھیرے میں اجالا ...

مزید پڑھیے

خواہشیں دنیا کی بار‌ دوش و گردن ہو گئیں

خواہشیں دنیا کی بار‌ دوش و گردن ہو گئیں رفتہ رفتہ منزل عقبیٰ کی رہزن ہو گئیں یہ ہوا کیسی چلی اس تنگنائے دہر میں شہر جنگل ہو گئے آبادیاں بن ہو گئیں چل سوئے گور غریباں اے حریص مال و زر دیکھ کتنی آرزوئیں نذر مدفن ہو گئیں کیسی رنگا رنگ شکلیں ہوں گی اے جوش بہار مٹ کے جو گلگونۂ ...

مزید پڑھیے

رقص کرتے ہیں مری آنکھ میں منظر کیا کیا

رقص کرتے ہیں مری آنکھ میں منظر کیا کیا دیکھتا رہتا ہوں میں خواب کے باہر کیا کیا وقت ظالم نے بھلا دیں ہمیں کیسی باتیں ہائے ماضی کے خزینے میں تھے گوہر کیا کیا اک ترے نام کا آنا تھا زباں پر اور بس ہم پہ برسے ہیں ہر اک سمت سے پتھر کیا کیا گھر سے باہر کو نکلنا بھی تو گھر آنا بھی دن ...

مزید پڑھیے

کسی بت کا یہ دل شیدا نہیں ہے

کسی بت کا یہ دل شیدا نہیں ہے ہمارے سر میں یہ سودا نہیں ہے خدا کیا ہے یہ بتلانا کٹھن تھا سو بتلایا کہ وہ کیا کیا نہیں ہے تم ایماں لاؤ وہ رستہ سرل ہے سرل تحقیق کا رستہ نہیں ہے خدا ہوتا یہ میں بھی چاہتا ہوں میرا چاہا خدا کرتا نہیں ہے خدا کیا ہے یہ موسیٰ نے بتایا سنائی دیتا ہے دکھتا ...

مزید پڑھیے

یاد کرنے کو یوں تو کیا کچھ ہے (ردیف .. )

یاد کرنے کو یوں تو کیا کچھ ہے کب ہمارا جیا ہوا کچھ ہے اور تو کچھ نہیں ہمارے پاس پر تمہارا چھوا ہوا کچھ ہے ایک ہی واقعہ تھا پھر بھی یاد تم کو کچھ مجھ کو دوسرا کچھ ہے اتنا ماہر ہے دنیا داری میں سوچتا کچھ ہے بولتا کچھ ہے اپنی پلکوں کو موند لے ناداں سامنے کچھ ہے دیکھتا کچھ ...

مزید پڑھیے

نہ جانے تیرے میرے درمیان اب کیا ہے (ردیف .. ن)

نہ جانے تیرے میرے درمیان اب کیا ہے خلا سی پہلے کوئی شے تھی اب خلا بھی نہیں تیرا خیال یہ سچ ہے ہمیں نہیں آیا مگر خیال میں کوئی تیرے سوا بھی نہیں جنوں کے نام پہ کاغذ کیے گئے کالے دماغ کار جنوں کی طرف گیا بھی نہیں

مزید پڑھیے

تمہارے جسم کا سایہ پڑا نہیں ہوگا

تمہارے جسم کا سایہ پڑا نہیں ہوگا دیار غم میں اجالا ہوا نہیں ہوگا ذرا سی بات سمجھنے میں ایک عمر لگی وہ خود پرست ہے وہ با وفا نہیں ہوگا بہت خموش نفس تھا گزرنے والا بھی سو اس کی موت کا شہرہ ہوا نہیں ہوگا ترے خیال کا بادل برس گیا تھا وہاں سو جسم و جان کا صحرا تپا نہیں ہوگا اسے یقین ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3845 سے 4657