شاعری

کب اترے گا روح سے گارا مٹی کا

کب اترے گا روح سے گارا مٹی کا مٹی کی ہے جھیل کنارا مٹی کا میں نے ہر دم کی دل داری مٹی کی میں نے ہر دم قرض اتارا مٹی کا میں نے چودہ چاند کئے ہیں جس کے نام اس نے بھیجا ایک ستارا مٹی کا مٹی کو روندا مٹی کا خون کیا ہوگا آخر کار اجارہ مٹی کا آنکھوں میں ہے صحراؤں سا سونا پن پاؤں کے نیچے ...

مزید پڑھیے

بچا کر شہر سے سر آ گیا ہوں

بچا کر شہر سے سر آ گیا ہوں میں بھر کر جیب میں ڈر آ گیا ہوں نہیں معلوم وحشت ہے کہ دہشت کنویں سے پیاس بھر کر آ گیا ہوں کماتا کیا مسلسل ہجرتوں میں بچایا یہ ہے کہ گھر آ گیا ہوں گلی میں بھونکتے کتوں کے ڈر سے تجھے دیکھے بنا گھر آ گیا ہوں یہاں اوصافؔ دریا بھی ہے پیاسا گھڑے میں ریت بھر ...

مزید پڑھیے

ایک احساس زیاں چھوڑے گا

ایک احساس زیاں چھوڑے گا ہجر ہے یہ تو نشاں چھوڑے گا یا بلائے گا سر دشت بلا یا سر نوک سناں چھوڑے گا پہلے رستے سے اٹھائے گا یقیں اور پھر اس پہ گماں چھوڑے گا میں بھی بولوں گا بہت بولوں گا خوف جب میری زباں چھوڑے گا جانتا ہوں کہ وہ چھوڑے گا ضرور دیکھنا ہے کہ کہاں چھوڑے گا شہریاری نہ ...

مزید پڑھیے

ہے بپا اک حشر سا دیوار پر

ہے بپا اک حشر سا دیوار پر کون پڑھتا ہے لکھا دیوار پر میں نے پوچھا کیا پس دیوار ہے اس نے لکھا دائرہ دیوار پر آؤ آداب محبت سیکھ لو لکھ دیا ہے ضابطہ دیوار پر اب نہ چھائے گا طلسم تیرگی چھوڑ آیا ہوں دیا دیوار پر سر اٹھاتی سر پٹختی ہے ندی مسکراتا ہے گھڑا دیوار پر چھوڑ دی تیری گلی ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں سونی در و دیوار چپ

کھڑکیاں سونی در و دیوار چپ ساری گلیاں اور بھرے بازار چپ کس قیامت کی خبر آنے کو ہے گاؤں کے چوپال چپ اخبار چپ درمیاں ہے خوف کا دریا رواں میں یہاں خاموش وہ اس پار چپ اک صدا اس کو بلانے کے لیے اک صدا آئے مجھے ہر بار چپ کیسا قحط آدمیت ہے یہاں زندگانی کے سبھی آثار چپ کس قیامت کا ہے ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی

لمحہ لمحہ اک نئی سعئ بقا کرتی ہوئی کٹ رہی ہے زندگی خود کو فنا کرتی ہوئی تیری چپ ہے یا مرے اندر مچا کہرام ہے کوئی شے تو ہے زباں کو بے نوا کرتی ہوئی اپنے اندر ریزہ ریزہ ٹوٹ کر بکھرا ہوں میں ہے یہ کیا شے چور دل کا آئنا کرتی ہوئی کشت جاں سے دن کو کٹتی ہے نئے زخموں کی فصل رات آتی ہے ...

مزید پڑھیے

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے

میرا تو نام ریت کے ساگر پہ نقش ہے پھر کس کا نام ہے جو ترے در پہ نقش ہے پھینکا تھا ہم پہ جو کبھی اس کو اٹھا کے دیکھ جو کچھ لہو میں تھا اسی پتھر پہ نقش ہے شاید ادھر سے گزرا ہے اک بار تو کبھی تیری نظر کا لمس جو منظر پہ نقش ہے تیرا خیال مجھ سے گو مل کر بچھڑ گیا اس کی مہک کا عکس مرے گھر ...

مزید پڑھیے

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں

میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں تو مری تصویر ہے میں تیرے پس منظر میں ہوں اپنا مرکز ڈھونڈتا ہوں دائروں میں کھو کے میں کتنے جنموں سے میں اک محدود سے چکر میں ہوں خود ہی دستک دے رہا ہوں اپنے در پر دیر سے گھر سے باہر رہ کے بھی جیسے میں اپنے گھر میں ہوں میں وہ آذر ہوں جسے ...

مزید پڑھیے

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے

کرب ہرے موسم کا تب تک سہنا پڑتا ہے پت جھڑ میں تو پات کو آخر جھڑنا پڑتا ہے کب تک اوروں کے سانچے میں ڈھلتے جائیں گے کسی جگہ تو ہم کو آخر اڑنا پڑتا ہے صرف اندھیرے ہی سے دیے کی جنگ نہیں ہوتی تیز ہواؤں سے بھی اس کو لڑنا پڑتا ہے سہی سلامت آگے بڑھتے رہنے کی خاطر کبھی کبھی تو خود بھی ...

مزید پڑھیے

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں خود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کے جو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں تمہیں بھی مجھ میں نہ شاید وہ پہلی بات ملے خود اپنے واسطے اب کوئی دوسرا ہوں میں جو دے سکو تو خنک سائے دو محبت کے خیال و خواب کی دنیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3838 سے 4657