ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے
ساحل پہ رک کے سوئے سمندر نہ دیکھیے باہر سے اپنے آپ کا منظر نہ دیکھیے اپنے وجود ہی پہ نہ گزریں کئی شکوک سائے کو اپنے قد کے برابر نہ دیکھیے جاگے تو محض ریت ہی پائیں گے ہر طرف گر ہو سکے تو خواب میں ساگر نہ دیکھیے اپنے ہی سر کے زخم کا کچھ کیجیے علاج آیا ہے کس طرف سے یہ پتھر نہ ...