شاعری

گہہ مشق ستم گاہ کرم یاد کریں گے

گہہ مشق ستم گاہ کرم یاد کریں گے جب تک بھی جئیں گے تمہیں ہم یاد کریں گے جب ذکر چھڑے گا کہیں ارباب وفا کا اپنے دل مرحوم کو ہم یاد کریں گے دل اپنا ہے دل پر تو نہیں زور کسی کا کعبہ میں بھی ہم تجھ کو صنم یاد کریں گے جو سجدہ گہہ عشق کی رفعت سے ہیں واقف وہ لوگ مرا نقش قدم یاد کریں ...

مزید پڑھیے

خدشے تھے شام ہجر کے صبح خوشی کے ساتھ

خدشے تھے شام ہجر کے صبح خوشی کے ساتھ تاریکیاں بھی پائی گئیں روشنی کے ساتھ جاری ہے صبح و شام جفاؤں کا سلسلہ کتنا ہے ان کو ربط مری زندگی کے ساتھ اب دیکھنا ہے مجھ کو ترے آستاں کا ظرف سر کو جھکا رہا ہوں بڑی عاجزی کے ساتھ زخم جگر کھلا تو تبسم کہا گیا انصاف ہو سکا نہ چمن میں کلی کے ...

مزید پڑھیے

جہاں نفاق کے شعلے ملیں بجھا کے چلو

جہاں نفاق کے شعلے ملیں بجھا کے چلو چراغ امن و محبت کا تم جلا کے چلو تمہارے بعد بھی آئیں گے قافلے یارو ملیں جو راہ میں کانٹے انہیں ہٹا کے چلو ابھی تو کام انہیں بھی بہت سے کرنے ہیں نمود صبح ہے سوتوں کو بھی جگا کے چلو اشارہ وقت کا یہ ہے کہ اے جہاں والو نیاز و ناز کی تفریق کو مٹا کے ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے

نہ پوچھو کیسے شب انتظار گزری ہے بھلا ہو دل کا بہت بیقرار گزری ہے ہزار مصلحتیں جس میں کار فرما ہوں وہ اک نگاہ کرم ہم پہ بار گزری ہے ہے اصطلاح محبت میں جس کا نام جنوں وہ ایک رسم بڑی پائیدار گزری ہے ضرور اس نے ترے پیرہن کو چوما تھا جو اس طرف سے صبا مشک بار گزری ہے وہ باغباں بھی ...

مزید پڑھیے

ابھرتے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو

ابھرتے چاند ستاروں کا تذکرہ بھی کرو خزاں کے ساتھ بہاروں کا تذکرہ بھی کرو گلوں کی چھاؤں میں آرام کرنے والو کبھی ہماری راہ کے خاروں کا تذکرہ بھی کرو ہمیشہ سیل و تلاطم کا ذکر کرتے ہو سکوں بہ دوش کناروں کا تذکرہ بھی کرو رباب و چنگ کے نغموں سے گر ملے فرصت شکستہ ساز کے تاروں کا ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل کی خوشی دوستو خوشی تو نہ تھی

شکستہ دل کی خوشی دوستو خوشی تو نہ تھی ہنسی پہ وقت کے اک طنز تھا ہنسی تو نہ تھی تمام عمر جسے روشنی سمجھتے رہے فریب چشم تمنا تھا روشنی تو نہ تھی کسی کے بعد جو گزری کسی کی حسرت میں وہ اک سزائے محبت تھی زندگی تو نہ تھی جسے زمانہ نے گل کی ہنسی کا نام دیا وہ ایک کیفیت کرب تھی ہنسی تو نہ ...

مزید پڑھیے

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے

نہ جس کا کوئی سہارا ہو وہ کدھر جائے نہ آئے موت تو بے موت کیسے مر جائے میں اس خیال سے ان سے گلا نہیں کرتا کہیں نہ پھول سے چہرے کا رنگ اتر جائے تو ہی بتا دے مجھے بے کسیٔ منزل شوق جو راہ سے بھی نہ واقف ہو وہ کدھر جائے ہزاروں طور نہیں چشم معرفت کے لئے جہاں جہاں تری معجز نما نظر ...

مزید پڑھیے

عجب دیکھا ہے منظر دائرے میں

عجب دیکھا ہے منظر دائرے میں سمٹ آیا سمندر دائرے میں کہیں تو ختم ہو کیسا سفر ہے پھرا ہوں زندگی بھر دائرے میں تو فاتح ہے کھلے میداں کا مانا کھلے گا تیرا جوہر دائرے میں تو میری آنکھ سے دریا چرا لے میں لاؤں گا سمندر دائرے میں میں تیرا وقت ہوں مت روک مجھ کو میں تیرے ساتھ ہوں ہر ...

مزید پڑھیے

بس محبت میں ترا ہجر کمایا ہوا ہے

بس محبت میں ترا ہجر کمایا ہوا ہے اور اس ہجر کو آنگن میں اگایا ہوا ہے تو جسے دشت سمجھتا ہے یہ اب دشت نہیں میں نے اس دشت میں اک شہر بسایا ہوا ہے یہ جو اک روشنی پہلو سے مرے پھوٹتی ہے یہ وہی زخم ہے جو تو نے لگایا ہوا ہے آنکھ سورج سے ملاتے ہوئے کتراتا ہوں میں نے آنکھوں میں کوئی چاند ...

مزید پڑھیے

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں

ٹوٹ کر بکھرے ہیں سپنے صحن میں کس نے کھینچے ہیں یہ رستے صحن میں کون دیتا ہے اداسی کو فریب کون اگاتا ہے یہ چہرے صحن میں کوئی سمجھا ہی نہیں اک لفظ بھی گونجتے ہیں کتنے لہجے صحن میں اک شجر بھی نام کو گھر میں نہیں اڑ رہے ہیں خشک پتے صحن میں جانے کب ٹوٹے طلسم تیرگی جانے کب اتریں سویرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3837 سے 4657