شاعری

تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائے

تیرا دل بھی مرے دل جیسا اگر ہو جائے کتنا آساں مرے جیون کا سفر ہو جائے میں نے ہر بار یہی سوچ کے کوشش کی ہے شاید اس بار تری مجھ پہ نظر ہو جائے اس کا وعدہ ہے وہ کل صبح ملے گی مجھ سے دل یہ کرتا ہے کہ جلدی سے سحر ہو جائے میری حسرت ہے اسے باہوں میں بھر لینے کی کاش اب کے وہ جب آئے تو جگر ہو ...

مزید پڑھیے

اپنے ہونے کی جھلک دیتا ہے

اپنے ہونے کی جھلک دیتا ہے فن کہیں بھی ہو چمک دیتا ہے پھول اس کو بھی مہک دیتا ہے ہاتھ جو اس کو جھٹک دیتا ہے غیر تنکا بھی اچک دیتا ہے اپنا تو اپنے کی ڈھک دیتا ہے آپ اندھیروں کا گلہ کرتے ہیں چاند تارے بھی فلک دیتا ہے پہلے جی بھر کے جلاتا ہے مجھے اور پھر باد خنک دیتا ہے جو شجر ...

مزید پڑھیے

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر ہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پر میں ہلتی شاخ سے ڈرتا نہیں ہوں بھروسا ہے مجھے اپنے پروں پر دعائیں مانگتی رہتی ہیں ندیاں امڈ آتے ہیں بادل ساگروں پر مجھے ان بستیوں کی آرزو ہے جہاں تالے نہیں ملتے گھروں پر قلم کمزور پڑتا جا رہا ہے سیاست چھا رہی ہے شاعروں ...

مزید پڑھیے

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے

کہہ دو دل میں جو بات باقی ہے یہ نہ سوچو کہ رات باقی ہے عشق کی بات ہے ابھی کر لو بھول جاؤ حیات باقی ہے ساری دنیا ہے پھر بھی تنہا ہوں اک تمہارا ہی ساتھ باقی ہے آج کہتے ہیں بس شراب شراب کل کہیں گے نجات باقی ہے پہلے لازم ہے جیتنا دل کا پھر کہاں کائنات باقی ہے

مزید پڑھیے

یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبو

یہ بھول جاؤ کہ ڈر جائے گی مری خوشبو ہر ایک سمت کو مہکائے گی مری خوشبو یہاں وہاں یہ اڑے گی پر اپنی مرضی سے ہوا کے رخ سے نہ گھبرائے گی مری خوشبو میں اپنے باغ میں جب پھول بن کے مہکوں گا تمہارے تک بھی پہنچ جائے گی مری خوشبو یہ تتلیاں کوئی طوفاں بکھیر دے ورنہ اسی قفس میں سمٹ جائے گی ...

مزید پڑھیے

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے

میں جانتا ہوں کہ سارے برے نہیں ہوتے مگر یہ سچ ہے کہ سب ایک سے نہیں ہوتے مرے پروں میں اگر حوصلے نہیں ہوتے یہ آسماں میرے آگے جھکے نہیں ہوتے مرے صنم جو مجھے تم ملے نہیں ہوتے سکون دل سے مرے رابطے نہیں ہوتے زمین پانی ہوا دیکھ بھلا سب کچھ ہے نہ جانے کیوں میرے بوٹے ہرے نہیں ہوتے یہ ...

مزید پڑھیے

گاہے گاہے نہ مجھ کو غذا دیجئے

گاہے گاہے نہ مجھ کو غذا دیجئے بھوک کو مارنے کی دوا دیجئے میں ہوں سچا تو مجھ کو صلہ دیجئے اور جھوٹا ہوں تو پھر سزا دیجئے بول کر ہی بتانا ضروری نہیں آپ راضی ہیں تو مسکرا دیجئے وہ جو چہرے کے پیچھے بھی دکھلاتا ہو مجھ کو ایسا کوئی آئینہ دیجئے ہم بھی آئے ہیں جھکنے در یار پر ہم کو بھی ...

مزید پڑھیے

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں

چپ ہوں سب جانتا مگر ہوں میں یہ نہ سمجھو کہ بے خبر ہوں میں یوں تو کہنے کو اک شجر ہوں میں لیکن افسوس بے ثمر ہوں میں کوئی اپنا ہے میری کمزوری ورنہ سچی بڑا نڈر ہوں میں آج بے فکر ہو کے سو جاؤ میرے گھر والو آج گھر ہوں میں ذہن میں لائنیں ہیں سڑکیں ہیں اب تو لگتا ہے خود سفر ہوں میں ہر ...

مزید پڑھیے

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں

کیوں مجھے لوگ سمجھتے کم ہیں میرے دل میں تو سبھی کے غم ہیں پیار کی ایک ہی رت ہوتی ہے نفرتوں کے تو کئی موسم ہیں ہم انہیں جھیل رہے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بزدل ہم ہیں تیل بھی پورا ہے بتی بھی سہی جانے کیوں میرے دیے مدھم ہیں آپ کچھ اور نہ سمجھیں الفتؔ میری آنکھیں تو خوشی سے نم ...

مزید پڑھیے

تری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو

تری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو ذرا تو بیٹھ کہ پیروں کی نیند پوری ہو وصال کرکے جدائی کا نام تک نہ رہے پھر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو ترا بچھڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے تو کیسے خوف کے ماروں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 373 سے 4657