رہنے دے تکلیف توجہ دل کو ہے آرام بہت
رہنے دے تکلیف توجہ دل کو ہے آرام بہت ہجر میں تیری یاد بہت ہے غم میں تیرا نام بہت بات کہاں ان آنکھوں جیسی پھول بہت ہیں جام بہت اوروں کو سرشار بنائیں خود ہیں تشنہ کام بہت کچھ تو بتاؤ اے فرزانو دیوانوں پر کیا گزری شہر تمنا کی گلیوں میں برپا ہے کہرام بہت شغل شکست جام و توبہ پہروں ...