شاعری

ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہے

ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہے تجھے خبر نہیں مجنوں کی آبرو کیا ہے مجھے تو آپ کی آنکھوں نے کر دیا سرشار مجھے خبر ہی نہیں جام کیا سبو کیا ہے نہ جانے ہوگا بھی دونوں میں اتفاق کبھی مزاج حسن ہے کیا میری آرزو کیا ہے مجاز ہے کہ حقیقت ثواب ہے کہ گناہ پتہ نہیں کہ یہ دنیائے رنگ و بو ...

مزید پڑھیے

یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل

یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل ہمت کو اپنی تول قدم کو جما کے چل راہ وفا ہے اس میں نہ یوں منہ بنا کے چل کانٹوں کو روند روند کے تو مسکرا کے چل شمع یقیں کی لو کو ذرا اور تیز کر ظلمت میں رہروؤں کو بھی رستہ دکھا کے چل گردش فلک کی تیز ہے رفتار تیری سست منزل ہے دور اپنے قدم اب بڑھا کے ...

مزید پڑھیے

حیات ہے مرے دل کی کسی کی زندہ یاد

حیات ہے مرے دل کی کسی کی زندہ یاد اسی سے ہے یہ درخشاں اسی سے ہے آباد وفا نہ ہو تو محبت کا اعتبار نہیں جفا نہ ہو تو ہے یہ دلبری بھی بے بنیاد تمام جسم ہے فاسد تمام جسم خراب اگر نہ جائے کسی آدمی کے دل کا فساد اب ایک قصۂ ماضی ہے ظلم چنگیزی کہ ہو گئے ہیں نئی قسم کے ستم ایجاد مجھے بتاؤ ...

مزید پڑھیے

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں مجھے بزم قدس میں دے جگہ جو وہاں نہیں تو کہیں نہیں ہے جبیں تو اصل میں وہ جبیں کہ جھکے وہاں تو جھکی رہے ترے آستاں سے جو اٹھ گئی وہ جبیں تو کوئی جبیں نہیں مرے دل کی نذر قبول کر جو اشارہ ہو تو یہ سر نثار کہ وفائے عہد کی شرط میں کہیں درج لفظ ...

مزید پڑھیے

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں خطا کر رہا ہوں سزا چاہتا ہوں محبت کا یہ بھی کوئی مرحلہ ہے کہ میں نالۂ نارسا چاہتا ہوں نگاہوں کی عفت دلوں کی طہارت میں سر سے قدم تک حیا چاہتا ہوں تردد توہم کی ظلمت مٹا کر میں علم و یقیں کی ضیا چاہتا ہوں میں اخلاق و کردار و روحانیت میں تنزل نہیں ارتقا ...

مزید پڑھیے

وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے

وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے یہ جرم وہ ہے کہ پاداش اس کی دار بھی ہے سنبھل کے آ مرے ہمدم کہ راہ عشق و وفا مقام سجدہ بھی میدان کارزار بھی ہے مرے خدا تری رحمت کی آس رکھتا ہے ترا یہ بندہ کہ خاطی بھی شرمسار بھی ہے خزاں کا دور ہے گھبرا نہ بلبل غمگیں خزاں کے بعد ہی پھر موسم ...

مزید پڑھیے

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے شعلۂ عشق کسے کہتے ہیں سودا کیا ہے کوئی خوش ہے کوئی نا خوش کوئی شاکی تجھ سے کون جانے کہ تری بزم کا قصہ کیا ہے ساغر مہر و وفا دور میں تھا صبح و مسا جانے اب مجلس احباب کا نقشہ کیا ہے علم تقدیر پہ موقوف نہیں میرا عمل کون جانے مری تقدیر کا لکھا کیا ...

مزید پڑھیے

آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقی

آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقی بھیج دے چاروں طرف اپنا پیام اے ساقی کھینچ لائے گا ہزاروں کو ترے پاس یہاں یہ ترا حسن نظر حسن کلام اے ساقی گھر لٹانے کی نہیں گھر کو بچانے کی ہے فکر کس قدر عشق ہے میرا ابھی خام اے ساقی کاسۂ دل ہے ترے سامنے اس کو بھر دے مے انگور تو ہے مجھ پہ حرام اے ...

مزید پڑھیے

خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھا

خود کے احساس محبت نے مجھے زندہ رکھا میرے کچھ نیک خیالات نے تابندہ رکھا مجھ کو مشکل ہی گزرتی ہے شناسائی سے کیونکہ اے دوستو تم نے مجھے شرمندہ رکھا سہل دل ہوں تو مجھے آپ ہی چلنا ہے محض اپنے معیار کو سو خود سے ہی پائندہ رکھا دل لگی کرتی رہی خاک محبت مجھ سے زندگی میں نے تجھے ریت کا ...

مزید پڑھیے

بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیں

بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیں سنا رہی ہیں محبت کی داستاں آنکھیں نہ تھی زباں کو اجازت کہ حال دل کہتی زبان اشک سے کرتی رہیں بیاں آنکھیں کبھی چھپی ہے محبت کہ میں چھپا لیتا زباں جو بند ہوئی بن گئیں زباں آنکھیں بناؤ دامن سادہ پہ ان سے گل بوٹے قبول ہو تو کروں نذر خوں فشاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 361 سے 4657