شاعری

تھم ذرا وقت اجل دیدار جاں ہونے لگا

تھم ذرا وقت اجل دیدار جاں ہونے لگا آخری ہچکی پہ کوئی مہرباں ہونے لگا کس ستم گر نے اڑا لی یاد ماضی کی بیاض ہر گلی ہر موڑ پر قصہ بیاں ہونے لگا جانے کس گل نے چمن کی حرمتیں پامال کیں موسم فصل بہاراں بھی خزاں ہونے لگا دفن کر کے قبر میں جب جا چکے احباب دوست جو کبھی سوچا نہ تھا وہ ...

مزید پڑھیے

ٹھہراؤ آ گیا ہے کچھ ایسا زندگی میں

ٹھہراؤ آ گیا ہے کچھ ایسا زندگی میں کہ بہتے بہتے جھرنا مل جائے جوں ندی میں پوجا ہے اس نے تم کو چاہا نہ عاشقی میں اب لطف کیا ملے گا اس دل کو بندگی میں دل حسرتوں کا جمگھٹ پھر کیسا سونا پن یہ دو چار پل کی خوشیاں آئیں تھیں زندگی میں دل چھو گیا یہ ان کا ہونا پڑا پشیماں کیسا اثر تھا آخر ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹ کے حسیں پھول کھلائے رکھیں

مسکراہٹ کے حسیں پھول کھلائے رکھیں اپنا ویرانۂ دل یوں ہی بسائے رکھیں سرخ رو ہو کے نہ دنیا میں کوئی جی پایا پھر بھی یہ شوق کہ صورت کو سجائے رکھیں آگ لگ جائے نہ دنیا میں شرر سے اس کی شر کے بہکے ہوئے طوفاں کو دبائے رکھیں خود فراموشی نے احساس دلایا اکثر دل کے زخموں کو ہوا دے کے ...

مزید پڑھیے

خوشبوئے گل سے جہاں سیراب تھا

خوشبوئے گل سے جہاں سیراب تھا کلیوں کا دل جانے کیوں بیتاب تھا زندگی سا زندگی جینے کا شوق شب کا سایہ یا سحر کا خواب تھا دل کی کشتی پار لگتی کس طرح حوصلہ مانجھی کا غرق آب تھا عمر بھر ٹھوکر کی زد میں ہی رہا پھر بھی دل تو گوہر نایاب تھا مسکرا کر کھل اٹھا صحرا میں بھی خندہ زن غنچہ ...

مزید پڑھیے

اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیں

اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیں اس کاسۂ سر کی کیا قیمت جو سنگ جنوں سے چور نہیں اس دل کو کوئی کیوں دل مانے جو جذب و جنوں سے خالی ہو اس شمع کو ہم کیوں شمع کہیں جو پرتو شمع طور نہیں یہ کیف و نشاط افزا راتیں یہ عیش و طرب کی سوغاتیں جس شے کے عوض میں ملتی ہیں اس شے کا ...

مزید پڑھیے

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے فلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہے جمال جاں فزا کا ان کے دل کش دل ربا جلوہ زمیں سے آسماں تک ہے مکاں سے لا مکاں تک ہے رہیں سب مطمئن گلشن میں اپنے آشیانوں سے کہ جولاں گاہ بجلی کی ہمارے آشیاں تک ہے نصیحت پر عمل خود بھی تو کرنا چاہئے ...

مزید پڑھیے

نہ راہ رو ہیں اکٹھا نہ راہ داں پیدا

نہ راہ رو ہیں اکٹھا نہ راہ داں پیدا تو کیا زمین سے ہو جائے کارواں پیدا مشقتوں سے نہ گھبرا نہ زحمتوں سے کبھی کہ پھول ہوتے ہیں کانٹوں کے درمیاں پیدا وہ خلق و امر کے مالک ہیں وہ اگر چاہیں تو اک اشارے سے ہوتے ہیں سو جہاں پیدا زمیں کو گردش افلاک سے نجات نہیں “بہ ہر زمیں کہ رسیدیم ...

مزید پڑھیے

میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطراب

میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطراب دھیمی دھیمی آنچ کہیے یا مسلسل التہاب رات وہ آئے تھے چہرے سے نقاب الٹے ہوئے میں تو حیراں تھا نکل آیا کدھر سے آفتاب دل پہ ان کے روئے روشن کا پڑا ہے جب سے عکس دل نہیں ہے بلکہ سینے میں ہے روشن ماہتاب ان کے دیوانوں کا استقبال ہے دار و رسن کھنچ گیا ...

مزید پڑھیے

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں ہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیں یہ دنیا تو مٹ جانے والی ہے لیکن زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں یہ دنیا تو اک ذرۂ مختصر ہے مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں نہ تنہا مرا کارواں راہ میں ہے رہ عشق میں کارواں اور بھی ہیں نہ ہو مطمئن ایک پتھر ہٹا کر کہ ...

مزید پڑھیے

تصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں

تصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں ترے خیال سے تسکین پا رہا ہوں میں خیال و وہم سے اونچی بہت ہے تیری ذات تری صفات کا نقشہ جما رہا ہوں میں مرا وجود بھی پرتو ہے تیری ہستی کا دل حزیں میں ترا نور پا رہا ہوں میں یہ کون ہے کہ معیت کا لطف حاصل ہے تمام عالم امکاں پہ چھا رہا ہوں میں ترے کرم کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 360 سے 4657