شاعری

ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور

ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور کرتے ہیں وہ ایجاد ستم اور جفا اور اے ظلم سراپا کبھی اس پر بھی نظر کر کیا میرا خدا اور ہے تیرا ہے خدا اور مشکل ہے بتانا کہ ہے کیا فرق مگر ہے لیلیٰ کی ادا اور ہے مجنوں کی ادا اور تسلیم کہ دنیا ہی میں ہے جیل بھی لیکن اندر کی فضا اور ہے باہر کی ...

مزید پڑھیے

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ نہ شکایت غم دل نہ حکایت زمانہ وہ اثر بھری نصیحت وہ کلام عارفانہ کہ لگا رہا ہو جیسے کوئی دل پہ تازیانہ جسے کافری سے رغبت جسے ذوق ملحدانہ اسے کیوں پسند آئے رہ و رسم مومنانہ ہے ستم کی دھند چھائی ہے جفا کی فصل آئی ہے چمن پہ ایسا پہرا کہ قفس ہے ...

مزید پڑھیے

دنیا سے بے شمار مسلماں گزر گئے

دنیا سے بے شمار مسلماں گزر گئے حسن ازل پہ ششدر و حیراں گزر گئے ممکن نہ تھا کہ دید کی نعمت یہاں ملے دل میں لئے وصال کے ارماں گزر گئے انسانیت کو ناز تھا جن کے وجود پر ایسے بھی جانے کتنے ہی انساں گزر گئے عالم فنا پذیر ہے باقی ہے ذات حق لاکھوں کروڑوں حضرت انساں گزر گئے طوفاں جو اٹھ ...

مزید پڑھیے

ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہے

ڈھونڈیئے اس شہر میں اب کس کو حاصل کون ہے اور ذرا بتلائیے کس کے مقابل کون ہے میں نے میزانوں سے پوچھا طاق پر رکھ کر ضمیر اپنی ان بربادیوں میں اور شامل کون ہے خود حوالے کر کے جس نے کشتیاں طوفان میں بادباں سے جا کے پوچھا میرا ساحل کون ہے یہ نسیم و خار و خس کس نے جلایا آگ میں آبشاروں ...

مزید پڑھیے

کس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروں

کس طرح بھولے ترے الفاظ بے جا کیا کروں وحشتیں یا حسرتیں جو بھی ہیں لے جا کیا کروں دل ہتھیلی پہ رکھا اور ساتھ میں اک خط دیا کچھ نہیں باقی بچا ہے کیوں یہ بھیجا کیا کروں ہر گھڑی ہلکان رہنا اور نہ سونا رات بھر اور جو تنہائی دی تھی وہ بھی ہے جا کیا کروں کب تلک چل پائے گی یہ ایک طرفہ ...

مزید پڑھیے

خود سوال و جواب کرتے رہو

خود سوال و جواب کرتے رہو اپنے دل سے حساب کرتے رہو کیوں یہ ارمان یوں ہی مر جائے طلب آفتاب کرتے رہو چاندنی ہو یا چاند ہو خود ہی تم تو نیت خراب کرتے رہو چاہے ترجیح کوئی دے یا نہیں خود کو یوں ہی سراب کرتے رہو جب تلک جسم ٹوٹ کر نہ گرے زندگی بے نقاب کرتے رہو

مزید پڑھیے

راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیں

راہ جو چلنی ہے اس میں خوبیاں کوئی نہیں روح اپنی چھوڑ کے وقت گراں کوئی نہیں دہر ہے جلتا ہوا اور پتھروں کے آدمی چلچلاتی دھوپ ہے اور آشیاں کوئی نہیں اور کتنا آزمانا جو ہوا وہ خوب ہے تم وہی ہو ہم وہی راز نہاں کوئی نہیں ہے نیا کچھ بھی نہیں کیوں اس قدر حیراں ہوئے ساتھ چلنے کو تمہارے ...

مزید پڑھیے

جانے کس کس نے ہمیں تاکید کی

جانے کس کس نے ہمیں تاکید کی کیوں نہیں دیکھی چمک خورشید کی جبکہ احساس رقابت ہو گیا کس سے تب امید ہو تائید کی سب چمک سے ہی اگر منسوب تھا سب سے بہتر تھی چمک ناہید کی خوب صورت زندگی نیرنگ ہے ہم نے کب اس سے کوئی امید کی جب تغافل کا ارادہ کر لیا کون کرتا فکر خیر و دید کی

مزید پڑھیے

رہ جاتی ہے ہر چیز جہاں سائے میں ڈھل کر

رہ جاتی ہے ہر چیز جہاں سائے میں ڈھل کر وہ دیس بھی اک بار ذرا دیکھیے چل کر ہم قافلۂ فکر بڑھا لے گئے آگے آئی جو صدا دشت زیاں میں کہ عمل کر افتادۂ رہ کی نہیں سنتا کوئی فریاد آتا ہے جو بڑھ جاتا ہے پیروں سے کچل کر ہر روزن دیوار سے ہیں گھورتی آنکھیں اس خوف کے زنداں سے کہاں جائیں نکل ...

مزید پڑھیے

پھر کیا جو پھوٹ پھوٹ کے خلوت میں روئیے

پھر کیا جو پھوٹ پھوٹ کے خلوت میں روئیے یکسر جہان ہی کو نہ جب تک ڈبوئیے دیوانہ وار ناچیے ہنسئے گلوں کے ساتھ کانٹے اگر ملیں تو جگر میں چبھوئیے آنسو جہاں بھی جس کی بھی آنکھوں میں دیکھیے موتی سمجھ کے رشتۂ جاں میں پروئیے ہر صبح اک جزیرۂ نو کی تلاش میں ساحل سے دور شورش طوفاں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 362 سے 4657