شاعری

کچھ نہیں کھلتا ابتدا کیا ہے

کچھ نہیں کھلتا ابتدا کیا ہے اس خرابات کی بنا کیا ہے سوچتے ہیں کہ ابتدا کیا تھی کاش سمجھیں کہ انتہا کیا ہے نہیں تم ہو ہماری نظروں میں ہم نہیں جانتے خدا کیا ہے درد تم نے دیا عنایت کی مگر اس درد کی دوا کیا ہے ہم نے دنیا میں کیا نہیں دیکھا دیکھیے اور دیکھنا کیا ہے

مزید پڑھیے

کرنا ہے کار خیر تو پھر سر نہ دیکھنا

کرنا ہے کار خیر تو پھر سر نہ دیکھنا برسیں جو تیری ذات پہ پتھر نہ دیکھنا لگنے لگیں گے دوست بھی دشمن سبھی تمہیں یعنی ہے کس کے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا رکھنا حقیقتیں بھی نگاہوں کے سامنے دن رات صرف خواب کا منظر نہ دیکھنا رہ جائے رنگ و بو سے تعلق ترا اگر پھولوں کو اپنے ہاتھ سے چھو کر ...

مزید پڑھیے

سکوت شب ستاروں سے ہوا جب بات کرتی ہے

سکوت شب ستاروں سے ہوا جب بات کرتی ہے تمہاری یاد کی خوشبو مرے ہر سو بکھرتی ہے وہ اک لڑکا جو میری ذات کا محور ہے مدت سے مرے اندر کی لڑکی بھی اسی کے ساتھ رہتی ہے کبھی دل میں محبت کے حسیں موسم نکھرتے ہیں کبھی مجھ سے لپٹ کر زندگی بھی رقص کرتی ہے ترے خواب اور خیالوں کی اگر محفل سجی ہو ...

مزید پڑھیے

تخت طاؤس مرا تخت ہزارہ تم ہو

تخت طاؤس مرا تخت ہزارہ تم ہو میرے شہزادے مری آنکھ کا تارا تم ہو میں ترے عشق میں لیلیٰ تو کبھی ہیر بنی تم ہو مجنوں یا ہو فرہاد گوارا تم ہو میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمر رواں جس کے خوابوں میں سدا وقت گزارا تم ہو زیست تو تیری امانت تھی ترے ساتھ رہی اور پھر کھیل سمجھ کر جسے ہارا ...

مزید پڑھیے

صیاد آ گئے ہیں سبھی ایک گھات پر

صیاد آ گئے ہیں سبھی ایک گھات پر اٹھنے لگی ہیں انگلیاں اب میری ذات پر موسم کا لہجہ سرد ہے یادیں بھی تلخ ہیں تنہائیوں کا بوجھ ہے ہر سمت رات پر کیوں آج میری یاد بھی آئی نہیں تجھے کل تک تو میرا تذکرہ تھا بات بات پر گھٹتے تھے ساتھ ساتھ کبھی تتلیوں کے پر اب کیوں خفا خفا سے ہو اک میرے ...

مزید پڑھیے

اروشی آسماں سے آ جائے

اروشی آسماں سے آ جائے کوئی ارجن سا روپ دکھلائے کوئی بس جائے جو تصور میں موت بھی زندگی سے شرمائے چاند بکھرا رہا ہے کرنوں کو کون آتا ہے سر کو نہوڑائے بادلوں کے سجیلے ڈولے پر کوئی دلہن پیا کے گھر جائے کوئی پھر دل میں چٹکیاں لے لے کوئی پھر من کو آ کے بہلائے

مزید پڑھیے

دل سے جب لو لگی نہیں ہوتی

دل سے جب لو لگی نہیں ہوتی آنکھ بھی شبنمی نہیں ہوتی جس کو غم نے حیات بخشی ہو ہر خوشی وہ خوشی نہیں ہوتی کانٹے جب تک جواں نہیں ہوتے شاخ گل کی ہری نہیں ہوتی خاص انداز جب سخن کا نہ ہو شاعری شاعری نہیں ہوتی لب پہ جبراً ہنسی بھی لاتے ہیں درد میں کچھ کمی نہیں ہوتی

مزید پڑھیے

وجہ جینے کی تمہارا ساتھ ہے

وجہ جینے کی تمہارا ساتھ ہے زندگی گویا تمہارے ہاتھ ہے میری بدنامی مری تقدیر تھی لوگ کہتے ہیں تمہارا ہاتھ ہے جانتے ہیں ہم کہ تم ایسے نہیں توڑ نہ دینا بھرم جو ساتھ ہے موہ لینے کا یہ فن جو تجھ میں ہے میری الفت کا بھی اس میں ہاتھ ہے کیا کریں ہم بس میں اپنے کچھ نہیں پھر بھی جینے کی ...

مزید پڑھیے

زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ

زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے ساتھ جیسے اک نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے ساتھ مجھ سے ملنا ہے تو یہ قید نہیں مجھ کو پسند ہر ملاقات مقید رہے اتوار کے ساتھ ایک ہی وار میں مرنے سے کہیں بہتر ہے ایک اک سر وہ جو کٹتا رہے تلوار کے ساتھ میں نے ہر گام پہ ان لوگوں کو مرتے دیکھا وہ جو جیتے ...

مزید پڑھیے

روٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیں

روٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیں دل کو مائل کر لیا آنسو بہانے کا نہیں راستے دھندلا گئے ہیں روشنی والو سنو وعدہ جلنے کا کیا تھا ٹمٹمانے کا نہیں کشتیاں منجدھار میں ہیں ناخدا ناراض ہیں آسمانوں سے کہو بجلی گرانے کا نہیں کب ڈھلے گی شام غم کب ختم ہوگا ظلم‌ و جبر زندگی انساں کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 359 سے 4657