شاعری

غزل کی چاہتوں اشعار کی جاگیر والے ہیں

غزل کی چاہتوں اشعار کی جاگیر والے ہیں تمہیں کس نے کہا ہے ہم بری تقدیر والے ہیں وہ جن کو خود سے مطلب ہے سیاسی کام دیکھیں وہ ہمارے ساتھ آئیں جو پرائی پیر والے ہیں وہ جن کے پاؤں تھے آزاد پیچھے رہ گئے ہیں وہ بہت آگے نکل آئیں ہیں جو زنجیر والے ہیں ہیں کھوٹی نیتیں جن کی وہ کچھ بھی پا ...

مزید پڑھیے

کہیں نہ ایسا ہو اپنا وقار کھا جائے

کہیں نہ ایسا ہو اپنا وقار کھا جائے خزاں سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا کہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ میں وہ قیس نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ اس دشت میں کرو اب سے جو صبر پی سکے اپنا غبار کھا ...

مزید پڑھیے

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے

مرہم کے نہیں ہیں یہ طرف دار نمک کے نکلے ہیں مرے زخم طلب گار نمک کے آیا کوئی سیلاب کہانی میں اچانک اور گھل گئے پانی میں وہ کردار نمک کے دونوں ہی کناروں پہ تھی بیماروں کی مجلس اس پار تھے میٹھے کے تو اس پار نمک کے اس نے ہی دیے زخم یہ گردن پہ ہماری پھر اس نے ہی پہنائے ہمیں ہار نمک ...

مزید پڑھیے

مشکلوں میں پڑ گئے اپنا خدا کہہ کر تجھے

مشکلوں میں پڑ گئے اپنا خدا کہہ کر تجھے تو ہی کہہ دے ہم پکاریں اور کیا کہہ کر تجھے حال دل کہنے کی کیا اب بھی ضرورت رہ گئی جب پکارا ہم نے اپنا دل ربا کہہ کر تجھے جادۂ منزل پہ کھا کر ٹھوکریں ہوش آ گیا کس قدر خوش تھے ہم اپنا رہنما کہہ کر تجھے تیرے ہوتے تیری دنیا میں یہ بیداد و ستم لوگ ...

مزید پڑھیے

سہا عمر بھر پر جتایا نہیں

سہا عمر بھر پر جتایا نہیں ترا زخم ہم نے دکھایا نہیں ازل سے کھڑے ہیں وفائیں لیے کسی نے ہمیں آزمایا نہیں ملا صاف گوئی کا ہم کو صلہ گلے سے کسی نے لگایا نہیں ہمارا ہی دکھ ہے اٹھائیں گے ہم ہے یہ بوجھ اپنا پرایا نہیں سفر زندگی کا رہا اس طرح کڑی دھوپ تھی اور سایہ نہیں جھکا ہے تو بس ...

مزید پڑھیے

سفر میں اب نہیں پر آبلہ پائی نہیں جاتی

سفر میں اب نہیں پر آبلہ پائی نہیں جاتی ہماری راستوں سے یوں شناسائی نہیں جاتی رہیں ہم محفلوں میں یا رہیں دنیا کے میلے میں اکیلا چھوڑ کر لیکن یہ تنہائی نہیں جاتی نگاہوں کے اشارے بھی محبت بھی علامت ہیں سبھی باتیں زبانی ہی تو بتلائی نہیں جاتی بڑی نازک سی ہے ڈوری یہ رشتوں کی بتاؤں ...

مزید پڑھیے

خود اپنے خون میں پہلے نہایا جاتا ہے

خود اپنے خون میں پہلے نہایا جاتا ہے وقار خود نہیں بنتا بنایا جاتا ہے کبھی کبھی جو پرندے بھی ان سنا کر دیں تو حال دل کا شجر کو سنایا جاتا ہے ہماری پیاس کو زنجیر باندھی جاتی ہے تمہارے واسطے دریا بہایا جاتا ہے نوازتا ہے وہ جب بھی عزیزوں کو اپنے تو سب سے بعد میں ہم کو بلایا جاتا ...

مزید پڑھیے

یہ شوخیاں یہ جوانی کہاں سے لائیں ہم

یہ شوخیاں یہ جوانی کہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی کہاں سے لائیں ہم محبتیں وہ پرانی کہاں سے لائیں ہم رکی ندی میں روانی کہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوست ایک صحرا میں اب ایسی آنکھ میں پانی کہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہو تم ہر ایک لفظ کا معنی کہاں سے لائیں ...

مزید پڑھیے

کاش کہ میں بھی ہوتا پتھر

کاش کہ میں بھی ہوتا پتھر گر تھا ان کو پیارا پتھر لوگو کی تو بات کریں کیا تیرا دل بھی نکلا پتھر ہم دونوں میں بنتی کیسے ایک تھا شیشہ دوجا پتھر شیشہ تو کمزور بڑا تھا پھر بھی کیسے ٹوٹا پتھر سب کے حصے ہیرے موتی میرے حصے آیا پتھر پارس تھا وہ تم نے جانا سب نے جس کو سمجھا پتھر کل تک ...

مزید پڑھیے

درد دل میں نہ آنکھوں میں پانی رہے

درد دل میں نہ آنکھوں میں پانی رہے اپنے چہرے پہ بس شادمانی رہے گفتگو میں گروں نہ میں معیار سے میرا لحاظ یوں ہی خاندانی رہے چھت پہ آئے پرندے کی خاطر صدا ایک مٹی کے برتن میں پانی رہے مجھ کو رکھا گیا گھر کے کونے میں یوں چیز جیسے کوئی بھی پرانی رہے رابطہ یوں رہے آخری سانس تک جب بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 346 سے 4657