شاعری

یہ بار غم اٹھا کر دیکھتے ہیں

یہ بار غم اٹھا کر دیکھتے ہیں تمہیں بھی آزما کر دیکھتے ہیں بڑا ہے زعم اس پاگل ہوا کو دیے ہم بھی جلا کر دیکھتے ہیں ہے ممکن زندگی آئے سمجھ اب دوبارہ سر کھپا کر دیکھتے ہیں ہمارے زخم کا کیا حال ہے وہ گلے ہم کو لگا کر دیکھتے ہیں یقیں دنیا پہ پھر ہونے لگا ہے چلو پھر چوٹ کھا کر دیکھتے ...

مزید پڑھیے

ایک مشکل کتاب جیسی تھی

ایک مشکل کتاب جیسی تھی زندگی اک عذاب جیسی تھی ہم کو تو خار ہی ملے لیکن یہ سنا تھا گلاب جیسی تھی گھونٹ در گھونٹ پی تو یہ جانا ایک کڑوی شراب جیسی تھی آئی حصے میں جو یتیموں کے وہ تو خانہ خراب جیسی تھی عمر بھر ہم سہیجتے تھے جسے ایک خستہ کتاب جیسی تھی کوئی تعبیر ہی نہ ہو جس کی اک ...

مزید پڑھیے

ساتھ تیرا اگر نہیں ہوتا

ساتھ تیرا اگر نہیں ہوتا ہم سے اتنا سفر نہیں ہوتا دھوپ ہے راہ میں اصولوں کی اس میں کوئی شجر نہیں ہوتا لوگ کیا کیا خرید لیتے ہیں بس ہمیں سے گزر نہیں ہوتا سامنا زندگی سے کرنے کا ہر کسی میں ہنر نہیں ہوتا اب تو عادی سے ہو گئے ہیں ہم حادثوں کا اثر نہیں ہوتا دل یوں لگتے قریب ہیں ...

مزید پڑھیے

ہم الگ سی ایک خوشبو جانتے ہیں

ہم الگ سی ایک خوشبو جانتے ہیں ہیں برہمن اور اردو جانتے ہیں کام چپ رہ کے کیا کرتے ہیں لیکن رات کے سب راز جگنو جانتے ہیں خامشی سے آ گرے دامن پہ اکثر درد کی شدت کو آنسو جانتے ہیں کیوں مہکتا ہے چمن آمد سے تیری پھول بھی کیا تیری خوشبو جانتے ہیں عرضیاں کب روکنا ہے کب بڑھانا یہ ہنر ...

مزید پڑھیے

غموں سے بشر کو رہا دیکھنا

غموں سے بشر کو رہا دیکھنا سلگتی کوئی جب چتا دیکھنا گزرنا عقیدت سے کچھ اس طرح کہ پتھر میں اپنا خدا دیکھنا یہ کرنا دعا کہ لگے نہ نظر شجر جب کوئی تم ہرا دیکھنا نہ ہو مطمئن سونپ کر کشتیاں ڈبو دے نہ یہ ناخدا دیکھنا بلندی پہ خود کو بھی پانا کبھی سمے کی بدلتی ادا دیکھنا ہے ممکن ...

مزید پڑھیے

پھر اس روپ میں آنا تم

پھر اس روپ میں آنا تم پھر سے راس رچانا تم مہکوں گلشن گلشن میں موسم پہ چھا جانا تم پھر میں اندھیرے اوڑھوں گا پھر اک دیپ جلانا تم بخشی تم نے دن کو رات اجیارا بھی لانا تم جب میں دور چلا جاؤں مجھ کو پاس بلانا تم بھٹکوں جنگل جنگل میں شاخ پہ پھول کھلانا تم کھلرؔ میٹھے بول کہے ڈالی ...

مزید پڑھیے

ایک لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں

ایک لمحہ ٹھہر گیا مجھ میں وقت جیسے کہ قید تھا مجھ میں کتنے احساس بھر گیا مجھ میں رکھ گیا کون آئنہ مجھ میں کتنے سورج نئے ابھر آئے آسماں جب بکھر گیا مجھ میں سارے منظر مرے اشاروں پر بس گئی ہے تری ادا مجھ میں کون صحرا میں بس گیا آ کر پیڑ اگنے لگا گھنا مجھ میں میں کہاں رات کا مسافر ...

مزید پڑھیے

دیوار و در سا چاہیے دیوار و در مجھے

دیوار و در سا چاہیے دیوار و در مجھے دیوانگی میں یاد نہیں اپنا گھر مجھے تو تھا تو تھا وجود میں اک آئنہ مرے اب غفلتوں سے ملتی ہے اپنی خبر مجھے پلکوں پہ نیند نیند میں رکھتا ہے خواب پھر دیتا ہے دستکیں بھی وہی رات بھر مجھے جی چل پڑا خزاؤں کی جانب اداس شب یہ لگ گئی بہار میں کس کی نظر ...

مزید پڑھیے

نہ درمیاں نہ کہیں ابتدا میں آیا ہے

نہ درمیاں نہ کہیں ابتدا میں آیا ہے بدل کے بھیس مری انتہا میں آیا ہے اسی کے روپ کا چرچا ہے اب فضاؤں میں ہوا کے رخ کو پلٹ کر ہوا میں آیا ہے کبھی جو تیز ہوئی لو تو جگمگا اٹھا برہنہ تھا جو کبھی اب قبا میں آیا ہے مجھے ہے پھول کی پتی سا اب بکھر جانا وہ چھپ چھپا کے مری ہی ردا میں آیا ...

مزید پڑھیے

کیا خلا آسمان تھا پہلے

کیا خلا آسمان تھا پہلے کس کی صورت پہ دھیان تھا پہلے دل جو اب شور کرتا رہتا ہے کس قدر بے زبان تھا پہلے تو جسے کارواں سمجھتا ہے اس پہ میرا نشان تھا پہلے جس جگہ روشنی ٹپکتی ہے واں ہوا کا گمان تھا پہلے چپ سی کیوں لگ گئی ہے کھلرؔ کو کتنا جادو بیان تھا پہلے

مزید پڑھیے
صفحہ 347 سے 4657