شاعری

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے کہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

حسن کو بے نقاب دیکھا ہے

حسن کو بے نقاب دیکھا ہے دل کا عالم خراب دیکھا ہے آئے وہ میرے گھر بصد تمکیں میں نے شاید یہ خواب دیکھا ہے مست کر دے جو سارے عالم کو وہ کسی کا شباب دیکھا ہے میں نے اکثر گناہ گاروں پر کرم بے حساب دیکھا ہے چھپتے ہیں اور چھپ نہیں سکتے ایسا رنگیں حجاب دیکھا ہے جب ہوا امتحان حسن و ...

مزید پڑھیے

ہر دل میں ترا سودا ہر آنکھ تمنائی

ہر دل میں ترا سودا ہر آنکھ تمنائی اے زینت ہر محفل ہنگامۂ تنہائی کعبے میں جسے ڈھونڈھا بت خانے میں ڈھونڈھا تھا مے خانے آ کر وہ تصویر نظر آئی شوخی ہے حیا پرور دزدیدہ نگاہیں ہیں سمجھے نہ کوئی اس کو انداز شناسائی غنچوں میں تبسم تھا کلیاں بھی چٹک اٹھیں جب آئے وہ گلشن میں لیتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

زخم دل کا ہو مداوا مجھے منظور نہیں

زخم دل کا ہو مداوا مجھے منظور نہیں زیست کا میری سہارا ہے یہ ناسور نہیں مانگتا ہوں میں تجھے تجھ سے نیا ہے یہ سوال بات رد کرنا گدا کی تیرا دستور نہیں آپ آ جائیں دم نزع مجھے لینے کو آپ کی شان کرم سے تو یہ کچھ دور نہیں عیش کے سب ہی ہیں سامان میسر لیکن میرا ساقی نہیں وہ بادۂ مخمور ...

مزید پڑھیے

اگر زاہد تو محفل میں ہماری ایک بار آئے

اگر زاہد تو محفل میں ہماری ایک بار آئے اسی جانب کو پھر اٹھیں قدم بے اختیار آئے جو آئے میکدے سے بے خود و مستانہ وار آئے کہیں ایسا نہ ہو باہوش کوئی بادہ خوار آئے دل و ایماں و دیں ہوش و خرد کچھ بھی نہیں باقی کسی کی ہم نگاہ ناز کا صدقہ اتار آئے پلائی آج میخانے میں نظروں سے شراب ...

مزید پڑھیے

وہ حسیں ایک رات کیا کہئے

وہ حسیں ایک رات کیا کہئے تھی مکمل حیات کیا کہئے بے رخی ان کی اک قیامت تھی حشر ہے التفات کیا کہئے بادۂ چشم ان کی اف توبہ مست ہے کائنات کیا کہئے خامشی میں نہاں فسانہ تھا ان کی محفل کی بات کیا کہئے جس سے ہو آفتاب شرمندہ اس کے رخ کی صفات کیا کہئے

مزید پڑھیے

گو سدا تم نے کج ادائی کی

گو سدا تم نے کج ادائی کی ہم نے ہر ظلم کی سمائی کی دل کے دل میں رہے میرے ارماں آ گئی عمر پارسائی کی اس کے وعدے کا اعتبار کیا جس کی عادت ہو بے وفائی کی ہیچ نظروں میں ہو گئی شاہی جب ترے در کی جبہ سائی کی ہم سے قائم وفاؔ کا نام رہا تم سے عزت ہے بے وفائی کی

مزید پڑھیے

اس نگری میں وہ بھی مگن تھا

اس نگری میں وہ بھی مگن تھا لوہے جیسا جس کا بدن تھا آج ہے وہ اک خشک شجر سا کل جو رشک صحن چمن تھا جنگل جنگل اس کی خوشبو پھول وہ کب محدود چمن تھا مجھ کو نہ آئی تلخ نوائی شہد سے میٹھا میرا سخن تھا دیکھا نہ اس میں اپنا چہرہ میرے گھر میں جو درپن تھا رکھوالوں نے ایسے لوٹا پل میں خالی ...

مزید پڑھیے

قرب منزل ٹوٹ جائے حوصلا اچھا نہیں

قرب منزل ٹوٹ جائے حوصلا اچھا نہیں فصل کو پکنے سے پہلے کاٹنا اچھا نہیں ڈوبنے والے بھی اس کشتی کے کم شاطر نہ تھے عادتاً کہتے رہے تھے نا خدا اچھا نہیں غیر کو پہلے پرکھتے مجھ سے پھر منہ موڑتے جلد بازی میں تمہارا فیصلہ اچھا نہیں میں تو بازی ہار کر بے فکر ہو کر چل دیا جیتنے والوں کو ...

مزید پڑھیے

میرا دست آرزو پھیلا ہوا

میرا دست آرزو پھیلا ہوا اور اس نے ہاتھ ہے کھینچا ہوا دشت میں مجھ کو صدا دیتا ہے کون کون آیا ہے یہاں بھٹکا ہوا اتنا دوڑا ہوں سرابوں کی طرف بہتے دریاؤں پہ بھی دھوکا ہوا کیا اماں مانگوں میں اس سے جان کی جانکنی میں ہے جو خود الجھا ہوا جس طرف دیکھو جزیرے بن گئے کیا سمندر بھی ہے اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 324 سے 4657