شاعری

بچھڑا ہے کون مجھ سے کہاں یہ خبر نہ دو

بچھڑا ہے کون مجھ سے کہاں یہ خبر نہ دو مڑ مڑ کے دیکھنا پڑے ایسا سفر نہ دو دل کی بصیرتوں سے جو رشتہ ہی توڑ دے آنکھوں کو میری دوستو ایسی نظر نہ دو ہر شہر اور گاؤں میں جوہر شناس ہیں وعدے تسلیوں کے یہ رنگیں گہر نہ دو وہ پتھروں کے شہر سے آیا ہے لوٹ کر شیشے کے گھر کہاں ہیں اسے یہ خبر نہ ...

مزید پڑھیے

جل گئے افکار تیرے میری تحریریں جلیں

جل گئے افکار تیرے میری تحریریں جلیں اب نمائش کس کی ہوگی ساری تصویریں جلیں جن کی بنیادوں میں اک تقدیس تھی تہذیب تھی آج میرے شہر کی وہ ساری تعمیریں جلیں یہ تو زنداں کے نگہباں ہی بتائیں گے تمہیں کن اسیروں نے لگائی آگ زنجیریں جلیں آتشیں صحرا میں میرے خواب تو محفوظ تھے یہ نہیں ...

مزید پڑھیے

یہ کشمکش منعم و نادار کہاں تک

یہ کشمکش منعم و نادار کہاں تک سرمایہ و محنت کی یہ تکرار کہاں تک ٹوٹے گی نہ ظلمات کی دیوار کہاں تک اٹھے گی نہ وہ چشم سحر بار کہاں تک اس شہر دل آزار میں اب دیکھنا یہ ہے رہتی ہے یوں ہی یورش آزار کہاں تک خوشنودی‌ٔ صیاد کی خاطر یوں ہی یارو زندانوں کو کہتے رہیں گلزار کہاں تک اک روز ...

مزید پڑھیے

وفا کی منزلوں کو ہم نے اس طرح سجا لیا

وفا کی منزلوں کو ہم نے اس طرح سجا لیا قدم قدم پہ اک چراغ آرزو جلا لیا رہ حیات میں ہزار الجھنیں رہیں مگر تمہارا غم جہاں ملا اسے گلے لگا لیا ہمارے حوصلے ہماری جرأتیں تو دیکھیے قضا کو اپنی زندگی کا پاسباں بنا لیا ہزار بار ہم فراز دار سے گزر گئے ہزار بار ہم نے ان کا ظرف آزما ...

مزید پڑھیے

جو تجھ سے منسوب ہوا ہے

جو تجھ سے منسوب ہوا ہے وہ سب کا محبوب ہوا ہے شہر میں اس پر پتھر برسے پھر بھی کب مرعوب ہوا ہے آج سنا ہے میخانے میں ہنگامہ تو خوب ہوا ہے فرحت افزا جو ہوتا تھا موسم وہ مرطوب ہوا ہے کیسے پوچھوں اس سے آخر کیوں مجھ سے محجوب ہوا ہے کاغذ پر جو لکھتا رہا ہوں فکر بھرا مکتوب ہوا ہے فرد ...

مزید پڑھیے

شہر کی لکھ گیا اک دھواں داستاں

شہر کی لکھ گیا اک دھواں داستاں بام و در ہو گئے خونچکاں داستاں سننے والوں کو ہو جب گراں داستاں چھوڑ دو پھر وہیں ہو جہاں داستاں ایک ہی سب کی روداد ہے شہر میں ہر مکیں داستاں ہر مکاں داستاں یہ تو ماضی کے اوراق بتلائیں گے اس نے فردا کی لکھی کہاں داستاں میرا اور اس کا ہر راز افشا ...

مزید پڑھیے

شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا

شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا دل کو محو روئے جاناں کر دیا تو نے اے جمعیت دل کی ہوس اور بھی مجھ کو پریشاں کر دیا واہ رے زخم محبت کی خلش جس کو دل نے راحت جاں کر دیا خود نمائی خود فروشی ہو گئی آپ نے اپنے کو ارزاں کر دیا ان کے دامن تک نہ پہنچا دست شوق اس کو مصروف گریباں کر دیا بزم میں ...

مزید پڑھیے

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا ہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا ہائے وہ دل جو ہدف تھا ناوک بیداد کا درد سہتا ہے وہی اب غفلت صیاد کا نرگس مستانہ میں کیفیت جام شراب قامت رعنا پہ عالم مصرعۂ استاد کا مانع فریاد ہے کچھ طبع کی افسردگی کچھ سکوت آموز ہے پاس ادب صیاد کا اس قدر دل ...

مزید پڑھیے

لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے

لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہے اے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہے محفل سی سجائی ہے دیدار کی حسرت نے ہر چند ترا جلوہ محبوب تماشا ہے مٹتا ہے کبھی دل سے نقش اس کی محبت کا ناکام تمنا بھی مجبور تمنا ہے جذبات کی دنیا میں برپا ہے قیامت سی اس حال میں رو پوشی کیا آپ کو زیبا ہے ساقی تری ...

مزید پڑھیے

آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو

آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہو پھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہو ہو شغل کوئی جی کے بہلنے کے واسطے راحت فزا ہے نالہ و فغاں ہی کیوں نہ ہو سودائے زلف یار سے باز آئیں گے نہ ہم مجموعۂ حواس پریشاں ہی کیوں نہ ہو احسان تیر یار ادا ہو سکے گا کیا جان اپنی نذر لذت پیکاں ہی کیوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 325 سے 4657