دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو
دل میں بکھرے ہوئے جالوں سے پریشان نہ ہو میرے گزرے ہوئے سالوں سے پریشان نہ ہو میری آواز کی تلخی کو گوارہ کر لے میرے گستاخ سوالوں سے پریشان نہ ہو میں نے مانا تری آنکھیں نہیں کھلتی ہیں مگر دن نکلنے دے اجالوں سے پریشان نہ ہو اپنی زلفوں میں اترتی ہوئی چاندی کو چھپا میرے بکھرے ہوئے ...