شاعری

قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہے

قدم قدم پہ عجب خوف سا گزرتا ہے وہ اپنے گاؤں میں جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے ہوائیں چلنے لگی ہیں چہار جانب سے سنبھالنا کہ ہر اک سلسلہ بکھرتا ہے کبھی جھنجھوڑ کے رکھ دیتا ہے تمام بدن کبھی وہ دل میں دبے پاؤں بھی اترتا ہے بجائے اس کے کہ مجھ کو بھی جگمگا دیتا وہ چاند ہو کے مری تیرگی سے ڈرتا ...

مزید پڑھیے

بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھا

بجا تھا زعم اگر اپنے بال و پر کا تھا کہ شوق بھی تو اسے چاند کے سفر کا تھا کہاں سے ٹوٹ پڑی بیچ میں فصیل جہاں معاملہ تو فقط میرے بام و در کا تھا میں لوٹ آیا دبے پاؤں گھر کے آنگن سے مکان غیر کا دروازہ اپنے گھر کا تھا خود اپنے سائے کو گھیرے میں لے کے بیٹھ گیا کہ اہتمام مرے آخری سفر کا ...

مزید پڑھیے

تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں

تمہارے شہر میں تھا بھی تو اک مسافر میں سو تھک کے بیٹھ گیا راستے میں آخر میں میں ہر لحاظ سے سیراب تھا خدا کی قسم یہ اور بات کہ پیاسا رہا بظاہر میں حروف ملتے ہی آواز ڈوب جاتی ہے جو چپ رہوں نہ بتاؤ تو کیا کروں پھر میں کسی بھی سمت بھٹکتا پھروں یمین و یسار تلاش راہ کروں بھی تو کس کی ...

مزید پڑھیے

نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہے

نہ پھل نہ پھول نہ سایا شجر میں باقی ہے مگر وہ سوکھا ہوا پیڑ گھر میں باقی ہے گرے مکان کو صدیاں گزر گئیں لیکن پر اب بھی خوف سا دیوار و در میں باقی ہے ابھی ہے دیر یہاں انقلاب آنے میں بڑا سکوت ابھی شور و شر میں باقی ہے تم آنا چاہو پلٹ کر تو آ بھی سکتے ہو ہر ایک نقش قدم رہ گزر میں باقی ...

مزید پڑھیے

دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگا

دل و دماغ میں پھر مشورہ سا ہونے لگا میں اپنے آپ سے خود ہی لپٹ کے رونے لگا ستارے ٹوٹ کے گرنے لگے بچھونے پر میں لے کے چاند کو بانہوں میں جب بھی سونے لگا ادھر نظر نے تعارف کا ابر دکھلایا ادھر میں اپنی امیدوں کی فصل بونے لگا

مزید پڑھیے

حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوں

حقیقتیں ہوں میسر تو خواب کیوں دیکھوں میں تشنگی میں بھی سمت سراب کیوں دیکھوں تمام عمر گزرنی ہے جب اندھیروں میں تو ایک شب کے لیے ماہتاب کیوں دیکھوں مرے مکان کے دروازے بند رہنے دو میں اپنی آنکھ سے موسم خراب کیوں دیکھوں ورق ورق ترے دل کی کتاب روشن ہو تو چہرہ چہرہ نیا انتساب کیوں ...

مزید پڑھیے

بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گا

بعد اس کے میرے گھر میں اور کیا رہ جائے گا بس کسی کے نام کا پتھر لگا رہ جائے گا کان بھر جائیں گے میرے خلوتوں کے شور سے اس کی یادوں کا پیمبر بولتا رہ جائے گا قید کر لے گا کوئی بچہ پروں کو کاٹ کر آسماں کی سمت طوطا دیکھتا رہ جائے گا قتل کر ڈالوں میں خود کو سوچتا ہوں بار بار میرے ...

مزید پڑھیے

دشت کا لمبا سفر تھا دور تک سایہ نہ تھا

دشت کا لمبا سفر تھا دور تک سایہ نہ تھا لوٹ جانے کے سوا آگے کوئی رستہ نہ تھا آندھیاں بے جان شاخوں سے الجھتیں بھی تو کیا پیڑ کے ننگے بدن پر ایک بھی پتہ نہ تھا کھل کے دونوں لڑ رہے تھے اک ذرا سی بات پر روکنے کے واسطے گھر میں کوئی بوڑھا نہ تھا سو گیا آنگن میں میں پھر چپ کی چادر اوڑھ ...

مزید پڑھیے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایہ بن کر دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے یا مری زیست کے آثار نمایاں کر دے یا بتا دے کہ تجھے کیسے ...

مزید پڑھیے

اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیں

اب اس کے ملنے کا کوئی گمان بھی تو نہیں کہ میرے شہر میں اس کا مکان بھی تو نہیں سلگنا دھوپ میں ہے بھیگنا ہے بارش میں کہ میرے سر پہ کوئی سائبان بھی تو نہیں انہوں نے پوچھا جو مجھ سے سبب خموشی کا کہوں گا کیا مرے منہ میں زبان بھی تو نہیں میں اپنے آپ سے رہتا ہوں بے تعلق سا نظر میں میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 220 سے 4657