رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے
رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے آگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہے کمرے کے اندر تو گھٹن ہے الجھن ہے باہر جھانک کے دیکھیں موسم کیسا ہے سارے رشتے توڑ کے ہم تو آئے تھے پھر یہ بیچ ہمارے جھگڑا کیسا ہے
رات کو میں نے خواب عجب سا دیکھا ہے آگے آگ ہے روشن پیچھے دریا ہے کمرے کے اندر تو گھٹن ہے الجھن ہے باہر جھانک کے دیکھیں موسم کیسا ہے سارے رشتے توڑ کے ہم تو آئے تھے پھر یہ بیچ ہمارے جھگڑا کیسا ہے
اس سے پہلے کہ نیا پھر کوئی حملہ ہو جائے جاگتے رہیے یہاں تک کہ سویرا ہو جائے خود کو ہر سمت سے پانی میں گھرا پاتا ہوں مجھ پہ اللہ کرے پیاس کا غلبہ ہو جائے جسم میں جسم چھپا لیجے کہ اس سے پہلے ٹھنڈ بڑھ جائے ہوا کا کوئی حملہ ہو جائے کب سے وہ سنگ لیے پھرتا ہے بے چین اداس آج اے کاش مرا ...
ہم اس کے دھیان میں آئیں گے دھیان میں بھی نہ تھا یقیں کا ذکر تو کیا ہے گمان میں بھی نہ تھا یہ پست تھی بھی تو کیا وہ بلند تھا بھی تو کیا زمیں کا حسن مگر آسمان میں بھی نہ تھا وہ سایہ جس کے لئے دھوپ سے گریز کیا نشان اس کا کہیں سائبان میں بھی نہ تھا تھکی تھکی سی چھتیں تھیں شکستہ ...
کسی کی پرشش غم بار ہو گئی ہوگی تمام دکھ ہمہ آزار ہو گئی ہوگی شدید موت کی یلغار ہو گئی ہوگی حیات ریت کی دیوار ہو گئی ہوگی وہ ایک چیز شرافت سے جو عبارت ہے ہماری رات کی دیوار ہو گئی ہوگی حدیث دل لب اظہار کے توسط سے حدیث کوچہ و بازار ہو گئی ہوگی طبیعت اپنی جو آزار سے نہیں ...
مجھے لگتے ہیں پیارے تتلیاں جگنو پرندے یہ زندہ استعارے تتلیاں جگنو پرندے یہیں ملتی ہیں دھرتی کی حدیں باغ ارم سے وہ دیکھو ابر پارے تتلیاں جگنو پرندے بس اک تم ہی نہیں منظر میں ورنہ کیا نہیں ہے صراحی چاند تارے تتلیاں جگنو پرندے ابھی یہ کون آیا صحن گل میں دھیرے دھیرے اڑے خوشبو کے ...
میرے گلے پہ جمے ہاتھ میرے اپنے ہیں جو لڑ رہے ہیں مرے ساتھ میرے اپنے ہیں شکست کھا کے بھی میں فتح کے جلوس میں ہوں کہ دے گئے جو مجھے مات میرے اپنے ہیں میری طرح سے یہ کچے گھروں میں رہتے ہیں جو گھیر لائے ہیں برسات میرے اپنے ہیں اگر نہیں ہیں یہ شمس و قمر مرے بس میں یہی بہت ہے یہ دن رات ...
کبھی اسے تو کبھی خود کو دیکھتے رہنا اسی مدار میں دن رات گھومتے رہنا ہم اپنا فرض کریں گے ادا بہ ہر صورت ہمارا کام ہے راہیں تراشتے رہنا وہ محو ہونا مرا شام سے تری دھن میں تمام رات تری راہ دیکھتے رہنا نہ ہونے دینا کبھی پست حوصلوں کی فصیل کمند چاند ستاروں پہ ڈالتے رہنا اٹھائے ...
مجھے خدشہ ہے اپنی چشم تر سے کہیں پانی گزر جائے نہ سر سے جلا دی ہیں ابھی سے میں نے شمعیں مجھے ہے انتظار شب سحر سے سفینے واقعی ہوں گر سفینے تو کب مرعوب ہوتے ہیں بھنور سے ہوا یوں درمیاں حائل زمانہ ہم اوجھل ہو گئے اپنی نظر سے انہیں داد سفر دیتی ہے منزل جو گھبراتے نہیں طول سفر ...
دنیا مزاج دان و مزاج آشنا نہ تھی دنیا کے پاس زہر بہت تھا دوا نہ تھی روشن تھا دل میں صرف کسی یاد کا چراغ گھر میں کوئی بھی روشنی اس کے سوا نہ تھی میں تھا وفا سرشت مجھے تھی وفا عزیز وہ تھا بہانہ جو اسے خوئے بہا نہ تھی یوں کوئی میرے پاس سے ہو کر گزر گیا جیسے کبھی نظر سے نظر آشنا نہ ...
پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہا تجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہا ہمارے ساتھ سبھی ہیں مگر کوئی بھی نہیں ہم انجمن میں ہیں بیٹھے ہوئے مگر تنہا گواہ ہیں رہ شوق و طلب کے سناٹے کیا ہے ہم نے یہ صبر آزما سفر تنہا چلے گئے ہیں نجانے کہاں شریک سفر مجھے حیات کی راہوں میں چھوڑ کر ...