شاعری

تیز ہو جائیں ہوائیں تو بگولا ہو جاؤں

تیز ہو جائیں ہوائیں تو بگولا ہو جاؤں گھومتے گھومتے ہم رقبۂ صحرا ہو جاؤں خود کلامی مری عادت نہیں مجبوری ہے یوں نہ مصروف رہوں میں تو اکیلا ہو جاؤں دوسرا پاؤں اٹھانے کی ضرورت نہ پڑے اور میں فاتح ناہید و ثریا ہو جاؤں بند آنکھوں سے نہ کر مشق تصور دن رات کہ ہمیشہ کے لئے جان میں ...

مزید پڑھیے

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا

سر کبھی گردن کبھی رخسار سہلاتا رہا ایک ہی جھونکا پلٹ کر بار بار آتا رہا پھول پر بیٹھی ہوئی تتلی اچانک اڑ گئی یہ خزانہ آخر اپنے ہاتھ سے جاتا رہا شمع کی لو پر ہوا نے ہونٹ اپنے رکھ دئے وجد میں آ کر دھواں تا دیر لہراتا رہا اس تمنا میں کہ اہل دل مجھے تجھ سا کہیں تیرا اک اک رنگ اک اک ...

مزید پڑھیے

اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا

اٹھا کر برق و باراں سے نظر منجدھار پر رکھنا ہمیشہ کے لیے یہ ہاتھ اب پتوار پر رکھنا وصالی موسموں کی بازیابی چاہنے والو بجائے شاخ گل دست طلب رخسار پر رکھنا سر تخلیق تن کب اختراعی دھن نکل آئے ذرا یہ ہونٹ تم بربط کے ٹوٹے تار پر رکھنا وبال دوش تھا یہ تم کسی کونے پہ لکھ دینا نمائش کے ...

مزید پڑھیے

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا

قمر گزیدہ نظر سے ہالہ کہاں سے آیا چراغ بجھنے کے بعد اجالا کہاں سے آیا ندی میں وہ اور چاند ہیں ایک ساتھ روشن زمیں پر آسمان والا کہاں سے آیا یہ غنچہ غنچہ سیاہ بھونرے کی بوسہ خواہی سواد گلشن میں ہم نوالا کہاں سے آیا فضا کی آلودگی تھی پہلے ہی نیم قاتل یہ دل میں ایک اور داغ کالا ...

مزید پڑھیے

طلسماتی فضا تخت سلیماں پر لئے جانا

طلسماتی فضا تخت سلیماں پر لئے جانا مرے گھر میں اترتی شام کا منظر لئے جانا وہ اسباب شکست و فتح خود ہی جان جائے گا علم جب ہاتھ سے چھوٹے تو میرا سر لئے جانا گرج کے ساتھ بجلی بھی چمکتی ہے پہاڑوں میں مسافر ہے کہ طوفانی ہوا کو گھر لئے جانا کھلے جاتے ہیں جیسے دل کے سارے بند دروازے اب ...

مزید پڑھیے

کسی نے تیری صورت دیکھ لی ہے

کسی نے تیری صورت دیکھ لی ہے یہی سمجھو قیامت دیکھ لی ہے ابھی انجام دل معلوم کیا ہے اجی تم نے تو آفت دیکھ لی ہے کہ ایذا ہجر کی دیکھی کہاں تھی فقط تیری بدولت دیکھ لی ہے چراتا ہے وہ کافر آنکھ مجھ سے نگاہ چشم حسرت دیکھ لی ہے شرافت آج ہم نے ترک کر دی زمانے کی شرافت دیکھ لی ہے ذرا ...

مزید پڑھیے

کتنا سادہ شباب لگتی ہو

کتنا سادہ شباب لگتی ہو ایک تازہ گلاب لگتی ہو آپ حسن و جمال کی صورت ایک شاعر کا خواب لگتی ہو آسماں کے سبھی ستاروں میں اک تمہیں آفتاب لگتی ہو کیوں نشہ بن کے چڑھ گئیں مجھ پر ہاں پرانی شراب لگتی ہو زلف الجھی ہوئی ہے ساون سی برسا برسا شباب لگتی ہو جس پہ ہر بار میں اٹکتا ہوں وہ سوال ...

مزید پڑھیے

کام ایسا میں کوئی کر جاؤں

کام ایسا میں کوئی کر جاؤں آپ کے قلب میں اتر جاؤں تھام لو ہاتھ تم اگر میرا میں نکھر جاؤں میں سنور جاؤں بن گیا بت میں دیکھ کر تم کو دل میں تھا دیکھ کر گزر جاؤں اتنی شدت سے تم کو چاہا ہے تم کو پا لوں اگر تو مر جاؤں تم بھلائے بھلا نہیں سکتیں میں نشہ وہ نہیں اتر جاؤں ایسے ذہیبؔ آج ...

مزید پڑھیے

کلیاں چٹک رہی ہیں بہاروں کی گود میں

کلیاں چٹک رہی ہیں بہاروں کی گود میں جلووں کی محفلیں ہیں ستاروں کی گود میں وہ موج جس کے خوف سے پتوار گر پڑے کشتی کو لے گئی ہے کناروں کی گود میں منزل سمٹ کے خود ہی مرے پاس آ گئی میں سر گراں تھی راہ گزاروں کی گود میں یوں تو دیئے فریب سہاروں نے عمر بھر دل کو بڑا سکوں تھا سہاروں کی ...

مزید پڑھیے

اب دل ہے ان کے حلقۂ دام جمال میں

اب دل ہے ان کے حلقۂ دام جمال میں دیکھا نہ تھا جنہیں کبھی خواب و خیال میں اے تلخئ فراق بجز نالۂ الم پایا نہ کچھ بھی میں نے امید وصال میں فطرت نے دے کے عشق کو احساس ضبط شوق الجھا دیا ہے کشمکش لا زوال میں بار غم جہاں بھی ہے تیرا خیال بھی ہیں کتنی وسعتیں دل آشفتہ حال میں آواز دی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 153 سے 4657