درد پرسش سے سوا ہوتا ہے
درد پرسش سے سوا ہوتا ہے یہی انجام وفا ہوتا ہے اٹھ کے جایا نہ کرو گلشن سے ہم سے ہر پھول خفا ہوتا ہے ان کی یادوں کی جب آتی ہے بہار زخم دل اور ہرا ہوتا ہے آپ کہتے ہیں ہمیں بھول گئے آپ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے
درد پرسش سے سوا ہوتا ہے یہی انجام وفا ہوتا ہے اٹھ کے جایا نہ کرو گلشن سے ہم سے ہر پھول خفا ہوتا ہے ان کی یادوں کی جب آتی ہے بہار زخم دل اور ہرا ہوتا ہے آپ کہتے ہیں ہمیں بھول گئے آپ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے
آنکھوں نے کبھی میری یہ منظر نہیں دیکھا غواص نے ایسا کبھی گوہر نہیں دیکھا ہو جاتیں شرف یاب یہ آوارہ ہوائیں گلیوں سے کبھی اس کی گزر کر نہیں دیکھا آراستہ ہے خود ہی اداؤں سے ستم گر پھر کیا ہے عجب اس پہ جو زیور نہیں دیکھا تھا نجم شناسی کا بڑا زعم جو خود پر اس جیسا فلک پر مگر اختر ...
ہے مجھ میں بھی کوئی نگہبان جیسا میں اپنے میں رہتا ہوں میزان جیسا ہمیشہ ہی اک پھول کھلتا رہے گا مری شاخ دل پر بھی ایمان جیسا تہ خاک ہونا ہے گلزار ہونا بظاہر یہ سودا ہے نقصان جیسا کسی اژدہے کا نہ سایہ ہو اس پر ہرا پیڑ ہو کر ہے ویران جیسا بہر حال ہم زندگی جی کے دیکھے یہ مضموں نہیں ...
چہرے پر ایک اور بھی چہرہ لگائیے دل چاہے رو رہا ہو مگر مسکرائیے ایسا نہ ہو کہ اپنی ہی صورت پہ شک پڑے اتنا بھی آئنے کو نہ منہ سے لگائیے ہو فاصلہ تو اور بھی بڑھ جاتی ہے کشش کچھ دور جا کے اور بھی نزدیک آئیے کانٹوں سے میرے پھولوں کو نسبت نہیں کوئی میں شاخ دل ہوں مجھ سے نہ دامن ...
چاروں طرف ہیں خار و خس دشت میں گھر ہے باغ سا چوٹی پہ کوہسار کی جلتا ہے کیا چراغ سا آب رواں کی گونج سے شورش خاک و باد تک میں ہی ہوں نقش جاوداں میں ہی عدم سراغ سا صبح بھی ریشہ ریشہ ہے شام بھی ہے رفو طلب سینۂ مہتاب بھی ورنہ ہے دل داغ سا بحث ہوئی نہ تبصرہ شور اٹھا نہ چپ لگی دل کی بساط ...
جبیں سے ناخن پا تک دکھائی کیوں نہیں دیتا وہ آئینہ ہے تو اپنی صفائی کیوں نہیں دیتا دکھائی دے رہے ہیں سامنے والوں کے ہلتے لب مگر وہ کہہ رہے ہیں کیا سنائی کیوں نہیں دیتا سمندر بھی تری آنکھوں میں صحرا کی طرح گم ہے یہاں وہ تنگئ جا کی دہائی کیوں نہیں دیتا جب اس نے توڑ دی زنجیر ...
رات کے پچھلے پہر اک سنسناہٹ سی ہوئی اور پھر ایک اور پھر ایک اور آہٹ سی ہوئی دفعتاً زنجیر کھنکی یک بیک پٹ کھل گئے شمع کی لو میں اچانک تھرتھراہٹ سی ہوئی خستۂ دیوار و در یک بارگی ہلنے لگے طاق تھی ویران لیکن جگمگاہٹ سی ہوئی ایک پیکر سا دھوئیں کے بیچ لہرانے لگا نیم وا ہونٹوں پہ ...
فصل کی جلوہ گری دیکھتا ہوں شاخ کانٹوں سے بھری دیکھتا ہوں رقص گاہوں میں بڑے چرچے ہیں کون ہے لال پری دیکھتا ہوں چاند کو چاہئے ہم شکل اپنا رات بھر در بدری دیکھتا ہوں لو مچلتی ہے کھلی کھڑکی میں روز اک شمع دھری دیکھتا ہوں میرے بس میں ہے نہیں کیا چلنا جھنڈیاں لال ہری دیکھتا ...
گھر نہیں بستی نہیں شور فغاں چاروں طرف ہے ایک چوتھائی زمیں پر آسماں چاروں طرف ہے دوڑتے ہیں رات دن تین آنکھ بارہ ہاتھ والے سرد سناٹے میں آواز سگاں چاروں طرف ہے لانچر راکٹ کلاشنکوف بارودی سرنگیں خون کا دریا پہاڑوں میں رواں چاروں طرف ہے جسم ہے تو سر نہیں سر ہے تو دست و پا نہیں ارض ...
وہ خیالوں میں بھی اس طرح گزر جاتے ہیں ان کے گیسو مرے شانوں پہ بکھر جاتے ہیں زندگی ان کی بھی ہے ایک مہاجر کی طرح اشک بے چارے کہاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں پہلے خود آ کے سنورتے تھے خود آئینے میں اب انہیں دیکھ کے آئینے سنور جاتے ہیں حادثے اتنے گزرتے ہیں ہمارے دل پر ہم تو بچوں کی طرح ...