شاعری

میری آنکھوں کا خواب تھا کوئی

میری آنکھوں کا خواب تھا کوئی روح کا اضطراب تھا کوئی ہے فقط آج دل میں تنہائی کل تلک بے حساب تھا کوئی چاند غیرت سے چھپ گیا کل بھی چھت پہ پھر بے نقاب تھا کوئی ہم جسے چوم کر ہوئے زخمی خار جیسا گلاب تھا کوئی ان کی محفل میں جو ہوا رسوا ہم سا خانہ خراب تھا کوئی کیوں یہ ذہیبؔ چڑھ گیا ...

مزید پڑھیے

محبت میں مری ہوگا اثر آہستہ آہستہ

محبت میں مری ہوگا اثر آہستہ آہستہ ہاں تم ہو جاؤ گے میرے مگر آہستہ آہستہ نقاب اس نے ہٹائی اپنے چہرے سے ذرا ایسے کہ بدلی سے نکلتا ہو قمر آہستہ آہستہ بھلا کیسے بچیں ہم وار سے اس کے بتاؤ تم یہ جھک کر اٹھ رہی ہے جو نظر آہستہ آہستہ دبی چنگاریاں دل کی کریدو مت اداؤں سے کہیں شعلہ نہ بن ...

مزید پڑھیے

وہ جو بے ساختہ ہنسنے کی ادا تھی تیری

وہ جو بے ساختہ ہنسنے کی ادا تھی تیری تجھ کو معلوم نہیں وہ ہی دوا تھی تیری ہجر راتوں میں اسے اوڑھ کے سو جاتا تھا پاس میرے جو اداسی کی ردا تھی تیری تیرے اک دوست نے پوچھا تھا یہ رو کر مجھ سے ہے قسم تجھ کو بتا دے کہ وہ کیا تھی تیری بد دعا اپنے لئے خوب کری تھی میں نے ہاں مگر راہ میں ...

مزید پڑھیے

اتنی شدت سے گلے مجھ کو لگایا ہوا ہے

اتنی شدت سے گلے مجھ کو لگایا ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ وقت آخری آیا ہوا ہے کیوں نہ اس بات پہ ہو جائیں یہ آنکھیں پاگل نیند بھی اتری ہوئی خواب بھی آیا ہوا ہے اب کے ہولی پہ لگا رنگ اترتا ہی نہیں کس نے اس بار ہمیں رنگ لگایا ہوا ہے سوچتا ہوں کہ اسے خود کو میں انعام کروں ایک لڑکی نے ترا ...

مزید پڑھیے

غم کا دریا سوکھ نہ جائے اس کی روانی کم نہ پڑے

غم کا دریا سوکھ نہ جائے اس کی روانی کم نہ پڑے خون جگر بھی شامل کر لوں آنکھ میں پانی کم نہ پڑے اس کے بدن کی خوشبو کا کچھ توڑ نکالو آج کی رات اور کوئی خوشبو لے آؤ رات کی رانی کم نہ پڑے سال‌‌ دو سال کی بات نہیں ہے عمر بہت درکار ہے ہاں سوچ رہا ہوں عشق کی خاطر عہد جوانی کم پڑے آئینے کا ...

مزید پڑھیے

آخرش کر لیا قبول ہمیں

آخرش کر لیا قبول ہمیں اس نے بھیجے ہیں لال پھول ہمیں ایک لڑکی کا خواب ہیں ہم بھی کوئی سمجھے نہیں فضول ہمیں اس قدر یاد کر رہے ہو تم یعنی جاؤ گے تم بھی بھول ہمیں ہم ہیں خوشبو ہوا کے دوش پہ ہیں جلد کر لیجیے وصول ہمیں مختصر کیجئے کہانی کو آپ تو دے رہے ہیں طول ہمیں راہ تیری نہیں ...

مزید پڑھیے

مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے

مانا کہ یہاں اپنی شناسائی بھی کم ہے پر تیرے یہاں رسم پزیرائی بھی کم ہے ہاں تازہ گناہوں کے لیے دل بھی ہے بیتاب اور پچھلے گناہوں کی سزا پائی بھی کم ہے کچھ کار جہاں جاں کو زیادہ بھی لگے ہیں کچھ اب کے برس یاد تری آئی بھی کم ہے کچھ غم بھی میسر ہمیں اب کے ہیں زیادہ کچھ یہ کہ مسیحا کی ...

مزید پڑھیے

روح پہ کیا کیا ضرب لگے ہیں جسم کی کھینچا تانی میں

روح پہ کیا کیا ضرب لگے ہیں جسم کی کھینچا تانی میں عشق کا حاصل دیکھ رہے ہیں ہم دونوں حیرانی میں ایک مرا آئینہ خانہ ایک تمہارے جسم کی لو خوف زدہ دل سوچ رہا ہے آگ لگے کب پانی میں ہم کو کیا معلوم تھا اس نے کیا کیا چھپا کے رکھا تھا ہم نے دوپٹہ کھینچ لیا تھا شانے سے نادانی میں پیسے دے ...

مزید پڑھیے

سفر مجھ پر عجب برپا رہی ہے

سفر مجھ پر عجب برپا رہی ہے مری وحشت مجھے چونکا رہی ہے کہیں سے آ رہی ہے تیری خوشبو اداسی دور ہوتی جا رہی ہے ابھی تک خود نہیں سمجھی ہے جس کو مجھے وہ بات بھی سمجھا رہی ہے امیروں کے بچے ٹکڑوں کو چن کر غریبی بھوک کو بہلا رہی ہے مبارک شام کی آمد مبارک کسی کی یاد لے کر آ رہی ہے گئی شب ...

مزید پڑھیے

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں

درد کی دھوپ ڈھلے غم کے زمانے جائیں دیکھیے روح سے کب داغ پرانے جائیں ہم کو بس تیری ہی چوکھٹ پہ پڑے رہنا ہے تجھ سے بچھڑیں نہ کسی اور ٹھکانے جائیں اپنی دیوار انا آپ ہی کر کے مسمار اپنے روٹھوں کو چلو آج منانے جائیں جانے کیا راز چھپا ہے تری سالاری میں تو جہاں جائے ترے پیچھے زمانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 154 سے 4657