شاعری

واسطے جتنے تھے سب وہم و یقیں نے چھوڑے

واسطے جتنے تھے سب وہم و یقیں نے چھوڑے آسماں سر سے ہٹا پاؤں زمیں نے چھوڑے کون تھا کیوں نہ رہا کیسے کریں اس کا پتہ اپنے دکھ بھی تو مکاں میں نہ مکیں نے چھوڑے خلقت شہر نہ مانی مرا ملحد ہونا ورنہ شوشے تو بہت مفتی دیں نے چھوڑے ہم نہ آغاز کے مجرم تھے نہ انجام کے ہیں ہاتھ میں ہاتھ لیے تم ...

مزید پڑھیے

عشق میں معرکے بلا کے رہے

عشق میں معرکے بلا کے رہے آخرش ہم شکست کھا کے رہے یہ الگ بات ہے کہ ہارے ہم حشر اک بار تو اٹھا کے رہے سفر غم کی بات جب بھی چلی تذکرے تیرے نقش پا کے رہے جب بھی آئی کوئی خوشی کی گھڑی دن غموں کے بھی یاد آ کے رہے جس میں سارا ہی شہر دفن ہوا فیصلے سب اٹل ہوا کے رہے اپنی صورت بگڑ گئی ...

مزید پڑھیے

عشق سے کیسے بعض آئیں ہم عشق تو اپنا دھرم ہوا

عشق سے کیسے بعض آئیں ہم عشق تو اپنا دھرم ہوا جس دن عشق سے ناطہ ٹوٹا سمجھو کریہ کرم ہوا پھر یادیں گھر گھر کر آئیں پھر سلگے بن زخموں کے پھر بوندوں نے آگ لگائی پھر ساون سرگرم ہوا روپ تو اس کو ایسا دیتے دنیا دیکھتی لیکن ہم بت سازی ہی چھوڑ چکے تھے جب وہ پتھر نرم ہوا کیسے تیشہ و تیغ ...

مزید پڑھیے

ہتھیلیوں پہ لیے اپنے سر گئے ہیں لوگ

ہتھیلیوں پہ لیے اپنے سر گئے ہیں لوگ سفر پہ اب کہ بہ رنگ دگر گئے ہیں لوگ ترے ستم کا گلہ یوں بھی کر گئے ہیں لوگ کہ اور کچھ نہ چلا بس تو مر گئے ہیں لوگ دلوں کے تیرہ گھروں پر ترے جمال کی دھوپ جو آ پڑی ہے تو کیا کیا سنور گئے ہیں لوگ ہوا ہے یوں بھی کہ اپنی طلب کے صحرا میں مثال موجۂ جوئے ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں

چھوڑ کر دل میں گئی وحشی ہوا کچھ بھی نہیں کس قدر گنجان جنگل تھا رہا کچھ بھی نہیں خاک پائے یاد تک گیلی ہوا نے چاٹ لی عشق کی غرقاب بستی میں بچا کچھ بھی نہیں حال کے زنداں سے باہر کچھ نہیں جز رود مرگ اور اس زنداں میں جز زنجیر پا کچھ بھی نہیں ہجر کے کالے سمندر کا نہیں ساحل کوئی موجۂ ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری

ہر گھڑی قیامت تھی یہ نہ پوچھ کب گزری بس یہی غنیمت ہے تیرے بعد شب گزری کنج غم میں اک گل بھی لکھ نہیں سکا پورا اس بلا کی تیزی سے صرصر طرب گزری تیرے غم کی خوشبو سے جسم و جاں مہک اٹھے سانس کی ہوا جب بھی چھو کے میرے لب گزری ایک ساتھ رہ کر بھی دور ہی رہے ہم تم دھوپ اور چھاؤں کی دوستی عجب ...

مزید پڑھیے

اب قابو میں دل کیوں آئے اب آنکھوں میں دم کیوں ٹھہرے

اب قابو میں دل کیوں آئے اب آنکھوں میں دم کیوں ٹھہرے جس بستی میں وو رہتا تھا اس بستی میں ہم کیوں ٹھہرے جو رس اور بو سے عاری ہو جس پھول کی دھوپ سے یاری ہو اس پھول پہ بھنورا کیوں ڈولے اس پھول پہ شبنم کیوں ٹھہرے کیوں وید حکیم بدلتے ہو کیوں کڑھتے ہو کیوں جلتے ہو رسنا ہی مقدر ہو جس کا ...

مزید پڑھیے

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں

صحرا میں گھٹا کا منتظر ہوں پھر اس کی وفا کا منتظر ہوں اک بار نہ جس نے مڑ کے دیکھا اس جان صبا کا منتظر ہوں بیٹھا ہوں درون‌‌ خانۂ غم سیلاب بلا کا منتظر ہوں جان آب بقا کھوج میں ہے میں موج فنا کا منتظر ہوں کھل جاؤں گا اپنے آپ سے میں تحسین صبا کا منتظر ہوں اس دور میں خواہش طرب ...

مزید پڑھیے

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو اس کی بھی تھی وہ گیا تو کروٹیں لے لے کے پہلو تھک ...

مزید پڑھیے

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی

رکھا نہیں غربت نے کسی اک کا بھرم بھی مے خانہ بھی ویراں ہے کلیسا بھی حرم بھی لوٹا ہے زمانے نے مرا بیش بھی کم بھی چھینا تھا تجھے چھین لیا ہے ترا غم بھی بے آب ہوا اب تو مرا دیدۂ نم بھی اے گردش عالم تو کسی موڑ پہ تھم بھی سن اے بت جاندار بت سیمبر اے سن توڑے نہ گئے ہم سے تو پتھر کے صنم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 117 سے 4657