شاعری

دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش

دل میں رہتا ہے کوئی دل ہی کی خاطر خاموش جیسے تصویر میں بیٹھا ہو مصور خاموش دل کی خاموشی سے گھبرا کے اٹھاتا ہوں نظر ایک آواز سی آتی ہے مسافر خاموش اس تعارف کا نہ آغاز نہ انجام کوئی کر دیا ایک خموشی نے مجھے پھر خاموش کچھ نہ سن کر بھی تو کہنا ہے کہ ہاں سنتے ہیں کچھ نہ کہہ کر بھی تو ...

مزید پڑھیے

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں عشق تو وہ ہے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں دروازے پر قفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں کام مکمل کرنے سے بھی شام مکمل کب ہوتی ہے ایک پرندہ رہ جاتا ہے باقی سب گھر آ جاتے ہیں اپنے دل میں گیند ...

مزید پڑھیے

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ دروازو کچھ وقت گزارو دیوارو چپ ہو جاؤ کس کشتی کی عمر ہے کتنی ملاحوں سے پوچھنے دو تم سے بھی پوچھیں گے اک دن دریاؤ چپ ہو جاؤ دیکھ لیا نا آخر مٹی مٹی میں مل جاتی ہے خاموشی سے اپنا اپنا حصہ لو چپ ہو جاؤ اس ویران سرا کی مالک ایک پرانی ...

مزید پڑھیے

ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے

ہمیں یوں ہی نہ سر آب و گل بنایا جائے ہمارے خواب دئے جائیں دل بنایا جائے دکھائی دیتا ہے تصویر جاں میں دونوں طرف ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے اگر جلایا گیا ہے کہیں دیے سے دیا تو کیا عجب کہ کبھی دل سے دل بنایا جائے شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم کبھی ملو کہ اسے معتدل بنایا ...

مزید پڑھیے

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے

شکر کیا ہے ان پیڑوں نے صبر کی عادت ڈالی ہے اس منظر سے دیکھو بارش ہونے والی ہے سوچا یہ تھا وقت ملا تو ٹوٹی چیزیں جوڑیں گے اب کونے میں ڈھیر لگا ہے باقی کمرا خالی ہے بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلا لی ہے اپنی مرضی سے سب چیزیں ...

مزید پڑھیے

صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے اوپر اوپر خاک اڑائی گہرائی سے ختم ہوئے ویرانہ بھی ہم تھے خاموشی بھی ہم تھے دل بھی ہم یکسوئی سے عشق کیا اور یکتائی سے ختم ہوئے دریا دلدل پربت جنگل اندر تک آ پہنچے تھے اسی بستی کے رہنے والے تنہائی سے ختم ہوئے کتنی آنکھیں تھیں جو اپنی ...

مزید پڑھیے

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے یہ گھنا شہر کہ جنگل در و دیوار کا ہے رنگ پھر آج دگر برگ دل زار کا ہے شائبہ مجھ کو ہوا پر تری رفتار کا ہے اس پہ تہمت نہ دھرے میرے جنوں کی کوئی مجھ پہ تو سایہ مرے اپنے ہی اسرار کا ہے صرف یہ کہنا بہت ہے کہ وہ چپ چاپ سا تھا اس کو اندازہ مرے شیوۂ ...

مزید پڑھیے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے

دن ایسے یوں تو آئے ہی کب تھے جو راس تھے لیکن یہ چند روز تو بے حد اداس تھے ان کو بھی آج مجھ سے ہیں لاکھوں شکایتیں کل تک جو اہل بزم سراپا سپاس تھے وہ گل بھی زہر‌ خند کی شبنم سے اٹ گئے جو شاخسار درد محبت کی آس تھے میری برہنگی پہ ہنسے ہیں وہ لوگ بھی مشہور شہر بھر میں جو ننگ‌ لباس ...

مزید پڑھیے

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں ترک محبت ترک تمنا کر چکنے کے بعد ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں درد ہماری محرومی کا تم تب جانو ...

مزید پڑھیے

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں

قحط وفائے وعدہ و پیماں ہے ان دنوں زوروں پہ احتیاط دل و جاں ہے ان دنوں ملعون ہیں جو موسم گل کے جنوں میں ہیں متروک رسم چاک گریباں ہے ان دنوں یہ رسم رفتگاں تھی فراموش ہو گئی اپنے کئے پہ کون پشیماں ہے ان دنوں آنکھیں ہیں خشک صورت صحرائے بے گیاہ سینہ ہجوم اشک سے گریاں ہے ان دنوں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 116 سے 4657