شاعری

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے

حیات وقف غم روزگار کیوں کرتے میں سوچتا ہوں کہ وہ مجھ سے پیار کیوں کرتے نہ میری راہ میں تارے نہ میرے پاس چراغ وہ میرے ساتھ سفر اختیار کیوں کرتے نگاہ صرف بلاوا نہیں کچھ اور بھی ہے یہ جانتے تو ترا اعتبار کیوں کرتے غم حیات میں ہوتا اگر نہ ہاتھ ترا تو ہم خرد میں جنوں کو شمار کیوں ...

مزید پڑھیے

پیڑوں کی گھنی چھاؤں اور چیت کی حدت تھی

پیڑوں کی گھنی چھاؤں اور چیت کی حدت تھی اور ایسے بھٹکنے میں انجان سی لذت تھی ان کہنہ فصیلوں کو پہروں ہی تکے جانا ان خالی جھروکوں میں جیسے کوئی صورت تھی حیران سی نظروں میں اک شکل گریزاں سی اک سایۂ گزراں سے وہ کیسی محبت تھی ہر جنبش لب اس کی دستک تھی در دل پر ہر وقف خموشی میں تقریر ...

مزید پڑھیے

کاتتا ہوں رات بھر اپنے لہو کی دھار کو

کاتتا ہوں رات بھر اپنے لہو کی دھار کو کھینچتا ہوں اس طرح انکار سے اقرار کو بے قراری کچھ تو ہو وجہ تسلی کے لیے بھینچ کر رکھتا ہوں سینے سے فراق یار کو اپنی گستاخی پہ نادم ہوں مگر کیا خوب ہے دھوپ کی دیوار پر لکھنا شبیہ یار کو ایسے کٹتا ہے جگر ایسے لہو ہوتا ہے دل کیسے کیسے آزماتا ...

مزید پڑھیے

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے!

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے! اک شب میں سارے شہر کے چہرے بدل گئے نیرنگئ نظر پس آئینہ خوب تھی باہر نکل کے دیکھا تو منظر بدل گئے مٹی میں ماہتاب کی خوشبو کا بھید تھا کس جستجو میں ہم لب بام ازل گئے باراں کی التجاؤں میں وقف دعا تھے جو پیڑوں کے ہاتھ دھوپ کی زد میں پگھل گئے گھلنے ...

مزید پڑھیے

یہ شور و شر تو پہلے دن سے آدم زاد میں ہے

یہ شور و شر تو پہلے دن سے آدم زاد میں ہے خرابی کچھ نہ کچھ تو اس کی خاک و باد میں ہے پہنچ کر اس جگہ اک چپ سی لگ جاتی ہے مجھ کو مقام اک اس طرح کا بھی مری روداد میں ہے عجب اک بے کلی سی میرے جسم و جان میں ہے صفت سیماب کی مجھ پیکر اضداد میں ہے یہ شیشہ گھر ابھی تک عرصۂ تکمیل میں ہے یہ ...

مزید پڑھیے

ان لبوں سے اب ہمارے لفظ رخصت چاہتے ہیں

ان لبوں سے اب ہمارے لفظ رخصت چاہتے ہیں جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی سلامت چاہتے ہیں نقش کی صورت لکھی آواز کو دے دو رہائی بے تکلم لفظ بھی اب تو عبارت چاہتے ہیں ایسی یخ بستہ خموشی میں نہ پھر زندہ بچیں گے میرے ٹھٹھرے ہونٹ لفظوں کی حرارت چاہتے ہیں میرے ہاتھوں پر لکھی تحریر مجھ سے ...

مزید پڑھیے

کچھ گنہ نہیں اس میں اعتراف ہی کر لو

کچھ گنہ نہیں اس میں اعتراف ہی کر لو جو چھپائے پھرتے ہو سب کے روبرو کہہ دو بوجھ کیوں رہے دل پر اپنی کم کلامی کا بزدلی بھی اچھی ہے چاہے تم یہ نہ مانو شب جو خواب دیکھا تھا ایک دشت خواہش کا اپنا جی کڑا کر کے آج اس سے کہہ ڈالو خوب ہے سزا یہ بھی کسب کامیابی کی ایک شب کی قیمت میں اب تو ...

مزید پڑھیے

ہم نے سارے حرف لکھے تو کس کے لیے

ہم نے سارے حرف لکھے تو کس کے لیے لکھنے کے سو ڈھنگ چنے تو کس کے لیے کس کی کھوج میں ہم نے دشت و جبل دیکھے بستی بستی ہم جو پھرے تو کس کے لیے پاتالوں میں کس کے رہے ہم متلاشی تا حد افلاک اڑے تو کس کے لیے کس کی یاد میں عمروں سر بہ سجود رہے ہونٹوں پر اوراد لکھے تو کس کے لیے کس کا چہرہ ...

مزید پڑھیے

ندی کنارے بیٹھے رہنا اچھا ہے

ندی کنارے بیٹھے رہنا اچھا ہے یا ندی کے پار اترنا اچھا ہے دستک سی اک دل کے بند کواڑوں پر چپکے چپکے سنتے رہنا اچھا ہے یوں ہی گھر میں چپ اور گم سم رہنے سے گلیوں گلیوں گھومتے پھرنا اچھا ہے جن لوگوں کی یاد سے آنکھیں بھر آئیں ان لوگوں کو یاد نہ کرنا اچھا ہے سانجھ ہوئے جب آنگن جاگنے ...

مزید پڑھیے

آس کے دیپ بجز تیرے بجھا بیٹھے ہیں

آس کے دیپ بجز تیرے بجھا بیٹھے ہیں در پہ تیرے جو لیے حرف دعا بیٹھے ہیں دل تو پہلے ہی گیا تھا تری آواز کے ساتھ تجھ کو دیکھا ہے تو آنکھیں بھی گنوا بیٹھے ہیں تجھ سے معانی کا تقاضا بھی نہیں کر سکتے دل کی شاخوں سے بھی الفاظ اڑا بیٹھے ہیں ساتھ چلنے سے گریزاں ہیں اسی واسطے ہم دھوکہ پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 118 سے 4657