Qurban Aatish

قربان آتش

قربان آتش کی غزل

    ابھی دریا میں طغیانی بہت ہے

    ابھی دریا میں طغیانی بہت ہے سنبھل کر پاؤں رکھ پانی بہت ہے سلامت ہے یقیں کی شاخ کیسے نئے موسم کو حیرانی بہت ہے چلو کچھ پیڑ رستے میں اگائیں مسافر کو پریشانی بہت ہے سمجھتے ہیں کہاں وہ مصلحت کو نئی نسلوں میں نادانی بہت ہے مرے چہرے پہ دھندلاہٹ ہے لیکن کسی کا چہرہ نورانی بہت ...

    مزید پڑھیے

    یہ شہر گل خش و خاشاک ہو گیا کیسے

    یہ شہر گل خش و خاشاک ہو گیا کیسے مجھے پتہ نہیں غم ناک ہو گیا کیسے جس آدمی نے کنارہ کبھی نہیں دیکھا سمندروں کا وہ تیراک ہو گیا کیسے کہیں چراغ کی مدھم سی روشنی بھی نہیں تو پھر یہ دامن شب چاک ہو گیا کیسے زمانہ کہتا رہا جس کو عمر بھر احمق وہ شخص صاحب ادراک ہو گیا کیسے ہوائے تند کو ...

    مزید پڑھیے

    سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں

    سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں بے کفن لاش لئے سڑکوں پہ ہم روتے ہیں کس لئے غازۂ غم چہرے پہ ملتے ہیں آپ ہم کہاں جاتے ہوئے ملک عدم روتے ہیں عقرب شام کسے ڈنک نہیں مارتے یاں ہم بھی روتے ہیں مگر آپ سے کم روتے ہیں کس قدر ہو گئے بے حس یہ ہمارے شاعر آنکھ ہی روتی ہے ان کے نہ قلم ...

    مزید پڑھیے

    ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی

    ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی شکست زیست کی تصویر سرخ ہونے لگی مرے بدن کا لہو بھی تو اس میں شامل ہے جلا چراغ تو تنویر سرخ ہونے لگی کوئی بھی زخم مرے جسم پر نہیں لیکن پسینہ ٹپکا تو تحریر سرخ ہونے لگی ہمارے بخت کا سورج غروب ہونے سے ہر ایک قوم کی تقدیر سرخ ہونے لگی جو اک زمانے سے ...

    مزید پڑھیے

    نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے

    نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے وہی ہے شاہ جو راز‌‌ قلندری جانے ہوا بکھیرتی مجھ کو ہے گرد کی صورت جہاں میں کون ہے جو میری بے گھری جانے بس ایک تیرے سوا بے خبر نہیں کوئی ہمارا حال تو رستے کی کنکری جانے تری اداؤں کی پہچان خوب ہے مجھ کو ترے کرم کی کوئی کیا ستم گری جانے مری نگاہ میں ...

    مزید پڑھیے

    بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ

    بہت روکا مگر دل کا دھواں آہستہ آہستہ افق پر چھا گیا بن کر فغاں آہستہ آہستہ یہ کیسی آندھیوں کا جبر ہے اپنے گلستاں میں اجاڑے جا رہی ہیں گلستاں آہستہ آہستہ نہ جانے کون سی آفت کی چادر تن گئی آخر پگھلتا جا رہا ہے آسماں آہستہ آہستہ سکوں کی نیند آئے کیسے مجھ کو جب سفیر شب چرا کے لے ...

    مزید پڑھیے

    کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار

    کیسا منظر تھا کہ کچھ طوفان سا تھا ایک بار چھین کر تجھ سے میں دل کو لے گیا تھا ایک بار یہ مری خوش قسمتی تھی بچ گیا تھا بال بال نفرتوں کا مجھ پہ بھی پتھر گرا تھا ایک بار کھلتے ہونٹوں پر گلوں کے چھا گئی پژمردگی کیا صبا نے درد کا تحفہ دیا تھا ایک بار اور کیا مجھ کو تری دہلیز سے حاصل ...

    مزید پڑھیے

    وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا

    وہ نور صبح طلسمی ہمارے گھر میں گرا اندھیرا اور گھنا کاسۂ سحر میں گرا یہ روشنی کی وراثت خریدتا کیسے ہمیشہ سکۂ شب ہی مرے کھنڈر میں گرا میں اس کو ڈھونڈ رہا ہوں مگر پتہ ہی نہیں کہاں یہ زاد سفر گرمیٔ سفر میں گرا نہ جانے کون سا سورج دہک رہا ہے یہاں نفس سے جس کے ہرا پیڑ دوپہر میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2