ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی
ستم کے وار سے زنجیر سرخ ہونے لگی
شکست زیست کی تصویر سرخ ہونے لگی
مرے بدن کا لہو بھی تو اس میں شامل ہے
جلا چراغ تو تنویر سرخ ہونے لگی
کوئی بھی زخم مرے جسم پر نہیں لیکن
پسینہ ٹپکا تو تحریر سرخ ہونے لگی
ہمارے بخت کا سورج غروب ہونے سے
ہر ایک قوم کی تقدیر سرخ ہونے لگی
جو اک زمانے سے دیوار پر ہے لٹکی ہوئی
نہ جانے کیسے وہ شمشیر سرخ ہونے لگی
ہر ایک آنکھ میں کیا خوں اگر گیا آتشؔ
کہ منہ سے نکلی تو تقریب سرخ ہونے لگی