سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں

سینوں میں امڑے ہیں صد موجۂ غم روتے ہیں
بے کفن لاش لئے سڑکوں پہ ہم روتے ہیں


کس لئے غازۂ غم چہرے پہ ملتے ہیں آپ
ہم کہاں جاتے ہوئے ملک عدم روتے ہیں


عقرب شام کسے ڈنک نہیں مارتے یاں
ہم بھی روتے ہیں مگر آپ سے کم روتے ہیں


کس قدر ہو گئے بے حس یہ ہمارے شاعر
آنکھ ہی روتی ہے ان کے نہ قلم روتے ہیں


جسم پہ کھال بھی رہنے نہیں دیتا ہے وہ
دیکھ کر ہم ترے نائب کے کرم روتے ہیں