نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے

نگاہ فقر ہی شان سکندری جانے
وہی ہے شاہ جو راز‌‌ قلندری جانے


ہوا بکھیرتی مجھ کو ہے گرد کی صورت
جہاں میں کون ہے جو میری بے گھری جانے


بس ایک تیرے سوا بے خبر نہیں کوئی
ہمارا حال تو رستے کی کنکری جانے


تری اداؤں کی پہچان خوب ہے مجھ کو
ترے کرم کی کوئی کیا ستم گری جانے


مری نگاہ میں کون و مکاں کی بستی ہے
زمانہ کیا مرا طرز قلندری جانے


تو عرش و فرش پہ آنکھیں ٹکائے رہتا ہے
کہاں سے تیری طرح کوئی مخبری جانے