Meer Shamsuddeen Faiz

میر شمس الدین فیض

میر شمس الدین فیض کی غزل

    چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن (ردیف .. ے)

    چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن پتنگ پھر کہیں آنکھوں کو سینکتا نہ پھرے جو ہو طمانچۂ موج نسیم سے آگاہ حباب سر پہ لئے کاسۂ ریا نہ پھرے کلاہ فقر پہ نازاں ہوں میں بدولت عشق سر نیاز پہ میرے کبھی ہما نہ پھرے خیال خواب عدم گر نہ ہو گریباں گیر تو آنکھ موند کے یاں کوئی بلبلہ نہ پھرے نہ ...

    مزید پڑھیے

    مار ڈالا مجھے فرقت نے قضا سے پہلے

    مار ڈالا مجھے فرقت نے قضا سے پہلے ہو گیا کام ادا ان کی ادا سے پہلے سبقت احسان کو ہے ان کے مرے عصیاں پر عفو کرتے ہیں خطا کو وہ خطا سے پہلے ہم نے سکھلائے ہیں انداز وفا و اخلاص آگہی کب تھی انہیں رسم وفا سے پہلے کیوں نہ تقدیم مرے کفر کو اسلام پہ ہو بت کلیسا میں نظر آئے خدا سے پہلے

    مزید پڑھیے

    جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں

    جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں ہر سنگ و خشت کو ہم بت خانہ جانتے ہیں اے شمع حسن و خوبی دل ہے وہی ہمارا محفل میں آپ جس کو پروانہ جانتے ہیں وہ رشک باغ رضواں جب تک نہ جلوہ گر ہو ہم روضۂ ارم کو ویرانہ جانتے ہیں مرقد پہ کوہ کن کے اے فیضؔ یوں لکھا ہے دیوانے ہیں جو مجھ کو دیوانہ جانتے ...

    مزید پڑھیے

    ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے

    ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے اس بت کو پاس خاطر عشاق ہے سو ہے مستور سو حجاب میں اس کا ہے رخ مگر حسن و جمال شہرۂ آفاق ہے سو ہے سو سو طرح کے رنج ہمیں ہجر میں ہیں ایک مشتاق وصل یہ دل مشتاق ہے سو ہے پیش نگاہ مجمع تقلید ہے تو کیا دل کو خیال عالم اطلاق ہے سو ہے

    مزید پڑھیے

    جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا

    جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا شعلہ‌ٔ جوالہ حلقہ ہے مری زنجیر کا کام معنی سے نہیں صورت پرستی کے سوا خط رخسار بتاں خط ہے مری تقدیر کا عشق میں حد ناتواں ہوں مانی و بہزاد سے اٹھ نہیں سکتا کبھو خاکہ مری تصویر کا فیضؔ وصف مصحف رخسار میں یاں تک ہوں محو ہے مرے دیوان پر دھوکا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    رشک فردوس چمن ہے اپنا

    رشک فردوس چمن ہے اپنا حیدرآباد وطن ہے اپنا نسبت گور و کفن بے جا ہے گور اپنی نہ کفن ہے اپنا زیست کو مرگ سمجھتے ہیں ہم پیرہن ہے سو کفن ہے اپنا جو وہ کہتا ہے وہ ہم کہتے ہیں دہن یار دہن ہے اپنا کیوں نہ طوف در محبوب کریں کعبہ اے قبلۂ من ہے اپنا

    مزید پڑھیے

    خواہان محبت ہوں عداوت نہیں آتی

    خواہان محبت ہوں عداوت نہیں آتی آتا ہے مجھے شکر شکایت نہیں آتی واں کام تو ہوتے ہیں خوشامد سے بر آمد کیا فکر کریں ہم کو سماجت نہیں آتی جب چاہتے ہو آگ لگاتے ہو دلوں میں پھر کہتے ہو کچھ مجھ کو شرارت نہیں آتی کیا سختیٔ طالع ہے کروں کس سے شکایت کچھ تم کو رہ و رسم مروت نہیں آتی

    مزید پڑھیے

    پیش نظر ہے نزع میں نقشہ نگار کا

    پیش نظر ہے نزع میں نقشہ نگار کا جلوہ خزاں دکھاتی ہے مجھ کو بہار کا سرمے سے رتبہ کم نہیں اپنے غبار کا ہے سنگ طور سنگ ہماری مزار کا ہے بعد مرگ شوق ہمیں دید یار کا چلمن کا حال ہے کفن تار تار کا تیرہ اقامت اپنی ہو باغ جہاں میں کیا آواز الرحیل ہے نالہ ہزار کا ہے اپنے سوز دل کا دماغ ...

    مزید پڑھیے

    میں شہید ناز ہوں مسکن مرا مدفن ہوا

    میں شہید ناز ہوں مسکن مرا مدفن ہوا عاقبت میرا کفن میرا ہی پیراہن ہوا مرتبہ یاں پست کا بالا پس مردن ہوا سنگ پا آخر مرا سنگ سر مدفن ہوا ہے اسیری آرزوئے خلقت دیوانگی طوق گردن مجھ کو میرا حلقۂ دامن ہوا افعی کاکل نظر آتے ہیں لہراتے ہوئے کیا دل ویراں ہمارا کیوڑے کا بن ہوا ہے دلیل ...

    مزید پڑھیے

    پھرتا ہوں بھٹکتا کوئی رہبر نہیں ملتا

    پھرتا ہوں بھٹکتا کوئی رہبر نہیں ملتا ہے وہ نگھرا اس کا مجھے گھر نہیں ملتا یا رب مرض عشق ہے یا کوئی بلا ہے چین اس دل بیتاب کو دم بھر نہیں ملتا ہم کس سے کریں دعوئ خوں کیجئے انصاف مقتول ہیں جس کے وہ ستم گر نہیں ملتا سب آرزوئیں دل کی بخوبی نکل آئیں تنہا وہ کبھی ہم سے گھڑی بھر نہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2