پیش نظر ہے نزع میں نقشہ نگار کا
پیش نظر ہے نزع میں نقشہ نگار کا
جلوہ خزاں دکھاتی ہے مجھ کو بہار کا
سرمے سے رتبہ کم نہیں اپنے غبار کا
ہے سنگ طور سنگ ہماری مزار کا
ہے بعد مرگ شوق ہمیں دید یار کا
چلمن کا حال ہے کفن تار تار کا
تیرہ اقامت اپنی ہو باغ جہاں میں کیا
آواز الرحیل ہے نالہ ہزار کا
ہے اپنے سوز دل کا دماغ آسمان پر
پرتو ہے آفتاب دل داغدار کا
اے جان پاک کر نہ تن و توش پر غرور
ہے حال جسم پیرہن مستعار کا
تیار خاک گور سے ہوتے ہیں جام مے
بعد فنا بھی رنج ہے مجھ کو خمار کا