Meer Shamsuddeen Faiz

میر شمس الدین فیض

میر شمس الدین فیض کی غزل

    ہو گئے ہیں ان دنوں کچھ عقل سے معذور ہم

    ہو گئے ہیں ان دنوں کچھ عقل سے معذور ہم ہے جو نزدیک اپنے اس کو جانتے ہیں دور ہم جس نے تعلیم انا الحق دی تجھے روز الست ہیں اسی استاد کے شاگرد اے منصور ہم عبدیت کے بھیس میں کچھ ہم سے بن سکتی نہیں وہ گئے دن جن دنوں رکھتے تھے کچھ مقدور ہم وائے نادانی کہ ہیں انجام سے کیا بے خبر دو ہی دن ...

    مزید پڑھیے

    کیا کہیں تم سے شب غم ہم پہ کیا کیا ہو گیا

    کیا کہیں تم سے شب غم ہم پہ کیا کیا ہو گیا دل پگھل کر بہہ گیا پانی کلیجا ہو گیا ذکر چشم مست سے میرا خرابہ ہو گیا میکدے تک بھی نہیں پہونچا کہ رسوا ہو گیا موجب خفت ہے عالم میں تجرد پیشگی میں سبک سار محبت ہو کے ہلکا ہو گیا جلوۂ اہل صفا ہے تیرہ بختوں پر وبال دن جہاں نکلا کہ مرغ شپر ...

    مزید پڑھیے

    ہم نے اپنے دل کو پیش روئے جاناں کر دیا

    ہم نے اپنے دل کو پیش روئے جاناں کر دیا آئینہ کو آئینہ دکھلا کے حیراں کر دیا اپنی پرچھائیں سے کوسوں بھاگتا ہوں ان دنوں مجھ کو وحشت نے زمانہ سے گریزاں کر دیا یک جہاں مارا گیا عشق لب جاں بخش میں تم نے عالم کو غریق آب حیواں کر دیا ہم نے چند اوراق وصف گل میں لکھے تھے کہیں نام ان کا ...

    مزید پڑھیے

    جب سے پیش نظر اس یار کی پیشانی ہے

    جب سے پیش نظر اس یار کی پیشانی ہے صورت آئینہ حاصل مجھے حیرانی ہے خلعت بادشہی خلعت عریانی ہے سرد سامان مرا بے سرد سامانی ہے خاکساری کسے کہتے ہیں کوئی کیا جانے ہم نے مٹی ترے کوچہ کی بہت چھانی ہے نغمہ سنجی تری اعجاز سے اے غنچہ دہن مرغ تصویر ہر اک مرغ گلستانی ہے

    مزید پڑھیے

    قدم قدم پہ ہے انداز دل ربائی کا

    قدم قدم پہ ہے انداز دل ربائی کا ستارہ اوج پہ ہے ان کی زیر پائی کا نہیں ہے پاس مسیحا کے بھی دوا اس کی کسی کو روگ خدایا نہ ہو جدائی کا وہ کوہ کن ہوں اجل مجھ کو خواب شیریں ہے گماں جنازہ پہ ہوتا ہے چارپائی کا خدا سے عرض کروں گا جو سامنا ہوگا بتوں کی ذات میں جوہر ہے بے وفائی کا ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    دشت میں آوارہ ہم کو شہر میں رسوا کیا

    دشت میں آوارہ ہم کو شہر میں رسوا کیا کیا کہیں تم سے سلوک اس عشق نے کیا کیا کیا پوچھتے کیا ہیں دم تکبیر تو نے کیا کیا صورت آئینہ چہرہ آپ کا دیکھا کیا جب تلک اک جاں دو قالب کا تصور تھا جناب سم بھی گر تم نے دیا تریاق میں سمجھا کیا حافظوں میں کیوں نہ ہو محشور مجنوں روز حشر یاد سبحان ...

    مزید پڑھیے

    فدا ہو جس مسیحائے زماں پر

    فدا ہو جس مسیحائے زماں پر دماغ اس کا ہو چوتھے آسماں پر بتو آگے خدا کے بھی تمہارا نہ لائیں گے کبھو شکوہ زباں پر بہار افشاں کی دکھلاوے جو وہ مہ کریں جگ مگ نہ تارے آسماں پر ہوئی مٹی خراب اے فیضؔ اس کی جب آیا کوئی میرے امتحاں پر اسی کے منہ پہ گرتی ہم نے دیکھا اڑائی خاک جس نے آسماں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2