جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں

جب سے کسی صنم کا افسانہ جانتے ہیں
ہر سنگ و خشت کو ہم بت خانہ جانتے ہیں


اے شمع حسن و خوبی دل ہے وہی ہمارا
محفل میں آپ جس کو پروانہ جانتے ہیں


وہ رشک باغ رضواں جب تک نہ جلوہ گر ہو
ہم روضۂ ارم کو ویرانہ جانتے ہیں


مرقد پہ کوہ کن کے اے فیضؔ یوں لکھا ہے
دیوانے ہیں جو مجھ کو دیوانہ جانتے ہیں