ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے
ہر برہمن بھی دید کا مشتاق ہے سو ہے
اس بت کو پاس خاطر عشاق ہے سو ہے
مستور سو حجاب میں اس کا ہے رخ مگر
حسن و جمال شہرۂ آفاق ہے سو ہے
سو سو طرح کے رنج ہمیں ہجر میں ہیں ایک
مشتاق وصل یہ دل مشتاق ہے سو ہے
پیش نگاہ مجمع تقلید ہے تو کیا
دل کو خیال عالم اطلاق ہے سو ہے