خواہان محبت ہوں عداوت نہیں آتی

خواہان محبت ہوں عداوت نہیں آتی
آتا ہے مجھے شکر شکایت نہیں آتی


واں کام تو ہوتے ہیں خوشامد سے بر آمد
کیا فکر کریں ہم کو سماجت نہیں آتی


جب چاہتے ہو آگ لگاتے ہو دلوں میں
پھر کہتے ہو کچھ مجھ کو شرارت نہیں آتی


کیا سختیٔ طالع ہے کروں کس سے شکایت
کچھ تم کو رہ و رسم مروت نہیں آتی