جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا

جلوہ دکھلاتی ہے وحشت گردش تقدیر کا
شعلہ‌ٔ جوالہ حلقہ ہے مری زنجیر کا


کام معنی سے نہیں صورت پرستی کے سوا
خط رخسار بتاں خط ہے مری تقدیر کا


عشق میں حد ناتواں ہوں مانی و بہزاد سے
اٹھ نہیں سکتا کبھو خاکہ مری تصویر کا


فیضؔ وصف مصحف رخسار میں یاں تک ہوں محو
ہے مرے دیوان پر دھوکا مجھے تفسیر کا