چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن (ردیف .. ے)
چراغ داغ دل سوختہ جو ہو روشن
پتنگ پھر کہیں آنکھوں کو سینکتا نہ پھرے
جو ہو طمانچۂ موج نسیم سے آگاہ
حباب سر پہ لئے کاسۂ ریا نہ پھرے
کلاہ فقر پہ نازاں ہوں میں بدولت عشق
سر نیاز پہ میرے کبھی ہما نہ پھرے
خیال خواب عدم گر نہ ہو گریباں گیر
تو آنکھ موند کے یاں کوئی بلبلہ نہ پھرے
نہ ہووے دیدۂ صبح وطن کبھو روشن
غبار گور غریباں کبھو اڑا نہ پھرے